Wednesday, 4 February 2026

Celebrating Basant - Feb05,'26

 

ثقافت کو فروغ دیں، جانی نقصان اور تباہی کو نہیں! یہ ملک واقعی کمال ہے! تعلیم پہلے ہی سانسیں گن رہی ہے، مگر ہم نے سوچا کیوں نہ ایک اور تہوار ڈال کر اسے مکمل آرام دے دیا جائے۔ بسنت پر پچیس سال پرانی پابندی اب یادوں کا حصہ بن گئی ہے۔ وہ جانیں، وہ بجلی کے نظام، وہ حادثے سب شاید پرانی فائلوں میں دب گئے۔
اب خوشی دگنی ہے کیونکہ بسنت کے ساتھ ہفتہ اتوار بھی شامل ہیں۔ یعنی چار دن کی چھٹیاں۔ پڑھائی ویسے ہی مشکل لگتی تھی، اب کم از کم تسلسل کا جھنجھٹ بھی ختم۔
کہا جا رہا ہے کہ بسنت سے معیشت چلے گی۔ پتنگ بکے گی، ڈور بکے گی، بازار گرم ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں مگر یہ خرچ پیداواری نہیں ہوتا۔ یہ پیسہ نہ نئی صنعت بناتا ہے، نہ مستقل روزگار پیدا کرتا ہے، نہ معیشت کو آگے لے جاتا ہے۔ چند دن کی خرید و فروخت ہوتی ہے، پھر سب کچھ ویسے کا ویسا۔ معیشت مضبوط تب ہوتی ہے جب سرمایہ تعلیم، ہنر اور کاروبار میں لگے، نہ کہ ڈور اڑانے میں۔
اصل مسئلہ شاید اس سے بھی گہرا ہے۔ ہماری قوم اسراف کی بیماری میں مبتلا ہے۔ کھلے خرچے، شاہ خرچیاں اور وقتی نمائش۔ دوسری طرف یہ حالت ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ بھوکے ہیں، نوکریاں نہیں، روزگار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں۔ ایک طرف چند دن کی تفریح پر کروڑوں اربوں، اور دوسری طرف دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد۔
اور یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مسلم امہ شدید بحران سے گزر رہی ہے۔ ف- ل- س- ط - ی-ن -ی تاریخ کے بدترین حالات میں ہیں، روزانہ جانیں جا رہی ہیں، گھر مٹ رہے ہیں۔ اور ہم ایک غیر پیداواری اور ماضی میں جان لیوا ثابت ہونے والے تہوار پر جشن منا رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ خوشی منانا غلط ہے، سوال یہ ہے کہ ترجیحات کہاں کھڑی ہیں۔
یہ سب دیکھ کر رومن یاد آتے ہیں ۔ جب وہ روٹی اور مقصدیت کم اور تماشے زیادہ دیتے تھے -
ہم نے بھی قوم کی حیثیت سے شاید وہی ماڈل اپنا لیا ہے۔ معیشت، تعلیم، روزگار، صحت اور امت کا درد بعد میں۔ پہلے پتنگ، ڈور اور رنگین آسمان۔
براہِ کرم اس بات کو دوبارہ پڑھیں اور جذبات یا مذہب کو درمیان میں لائے بغیر صرف دلائل اور حقائق پر جواب دیں۔ بات بالکل سادہ ہے۔
اگر صرف ایک انسان بھی اس وجہ سے مر جائے یا شدید زخمی ہو جائے تو یہی اس تقریب کو ہمیشہ کے لیے روکنے کے لیے کافی ہے۔ اگر بسنت منانی ہے تو کم از کم شہری اور رہائشی علاقوں میں پتنگ بازی کے بغیر منائی جائے۔
یہ صرف قانون یا انتظامیہ کا مسئلہ نہیں، یہ اجتماعی اخلاقیات اور اجتماعی ضمیر کا معاملہ ہے جو بدقسمتی سے کہیں گم ہو چکا ہے۔ ماضی میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگ اس وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں یا عمر بھر کے لیے معذور ہوئے ہیں، اور میں یہاں مالی نقصانات یا املاک کے ضیاع کی بات بھی نہیں کر رہا۔
کیا یہ سب کافی نہیں؟
آخر کتنی مزید جانیں جائیں، کتنے مزید لوگ معذور ہوں، تب جا کر ہم رکیں گے؟
آخر میں ایک سادہ سا سوال۔ ہماری ترجیحات، غیرت، وقار، ایمان اور یکجہتی کہاں کھو گئی؟
ان سب کی فیملیز کو جواب ضرور دیں اور بسنت منانے کی ترغیب بھی دیں
 
Few of the Basant Fatalities (2004)
1. Asif Ali, 19 – Fatally electrocuted chasing kite in Faisal Town, Lahore (16 Feb 2004)
2. Chand, 30 (rickshaw driver) – Electrocution, Shalamar, Lahore (16 Feb 2004)
3. Arslan, 10 – Electrocuted, Sherakot, Lahore (16 Feb 2004)
4. Ishfaq Ahmad, 22 – Electrocution, Green Town, Lahore (16 Feb 2004)
5. Shabbir Ahmad – Road accident while chasing kite, near Lorry Adda, Lahore (16 Feb 2004)
6. Shan, 9 – Hit by van while chasing kite, Multan Road, Lahore (16 Feb 2004)
7. Sharif, 18 – Fell from rooftop, Gowalmandi, Lahore (16 Feb 2004)
8. Mustafa Ahmad, 15 – Fell from rooftop, Gujjarpura, Lahore (16 Feb 2004)
9. Rizwan, 8 – Fell from rooftop, New Muslim Town, Lahore (16 Feb 2004)
---
Lahore Basant Fatalities (2007)
10. Umer Farooq, 11 – Throat slashed by kite string, Gulshan-i-Ravi, Lahore (25 Feb 2007)
11. Haider Ali – Killed by stray bullet, New Samanabad, Lahore (25 Feb 2007)
12. Hassan Nadeem, 8 – Stray bullet wound, Mozang, Lahore (25 Feb 2007)
13. Danish, 13 – Fell from rooftop, Baghbanpura, Lahore (25 Feb 2007)
14. Maryam, 8 – Stray bullet, Garden Town, Lahore (25 Feb 2007)
15. Naheed Taranum, 50 – Fell from rooftop, Rang Mahal, Lahore (25 Feb 2007)
16. Shareef, 14 – Fell from rooftop, Shafiqabad, Lahore (25 Feb 2007)
17. Imran, 20 – Run over chasing kite, Defence Road, Lahore (25 Feb 2007)
18. Saif, 8 – Killed attempting to retrieve kite, Faisal Town, Lahore (25 Feb 2007)
---
Rawalpindi Basant Fatalities and Injuries (2023)
19. Akram Afzal, 20 – Stray bullet death, Ratta Amral, Rawalpindi (Feb 2023)
20. Wani, 7 – Stray bullet death, Mohanpura, Rawalpindi (Feb 2023)
21. Kamal Ali, 14 – Electrocution, Fazalabad, Rawalpindi (Feb 2023)
22. Arham Fazal, 20 – Killed by bullet, Thana Airport area, Rawalpindi (Basant)
---
Rawalpindi Basant Death and Injury Report (2024)
23. Unidentified Man (65) – Fatal fall from rooftop while kite flying, Rawalpindi (24 Feb 2024)
24. At least 35 others injured – Multiple injuries from stray bullets, kite strings and falls, Rawalpindi (24 Feb 2024)
---
Other Historic Rawalpindi Basant Cases
25. Mohammad Usman, 12 – Electrocuted while catching kite, Dhoke Kala Khan, Rawalpindi (Feb 2021)
26. Unspecified number of injured individuals (2021) – 165 injured from stray bullets and kite strings in Rawalpindi (2021 Basant)


 

Wednesday, 28 January 2026

Decline in Sparrow Populations - Jan'26


DECLINE IN SPARROW POPULATIONS - Jan 2026

Pakistan is witnessing a worrying decline in sparrow populations, with experts warning that the once-common birds are rapidly disappearing from cities and towns. Studies and wildlife reports indicate that urban areas like Karachi, Lahore, and Islamabad have seen a sharp drop in sparrow numbers over the past two decades.


Environmentalists point to habitat loss, urbanization, pollution, and modern building designs that lack nesting spaces as key reasons for the decline. Trees and green areas, which sparrows rely on for food and shelter, are being cut down at an alarming rate, further threatening their survival.

Experts say the decline of sparrows is a warning sign for deteriorating urban biodiversity and air quality. Conservationists urge authorities and citizens to take immediate action, including creating bird-friendly spaces and reducing environmental hazards, to prevent the species from vanishing completely.
.
.
.
#SparrowDecline #PakistanWildlife #BirdConservation #UrbanBiodiversity #EnvironmentalCrisis #SaveSparrows #ClimateImpact #Karachi #Islamabad #WildlifeAwareness #Tribunetrends

Monday, 12 January 2026

Which Iran You Support - Jan'26

Concepts like secularism, democracy, and freedom are highly subjective, particularly in today's world where media often manipulates them to serve the interests of the USA and Israel. Check Syria, Lybia, Iraq ...



A Brave Lady - Jan12,'26


A BRAVE LADY - Jan 2026

In a small village in Pakistan, a jirga (tribal council) delivered a sentence for a crime that never happened.

Mukhtar Mai’s younger brother was accused of offending a powerful clan. The punishment was not for him. It was for her.
On the council’s order, Mukhtar Mai was gang-r**ed by four men and paraded through her village. The expectation was clear: she would kill herself, as countless women before her had.
She didn’t. Mukhtar Mai went to the police. She testified in court. She named her attackers — breaking a silence enforced for generations. Her courage shook Pakistan and drew global attention to honor-based violence.
When compensation was awarded, she made another defiant choice. She used the money to build schools for girls in her village. Today, Mukhtar Mai runs multiple schools, educating hundreds of girls — many from families that once believed girls should never be seen, let alone heard.
Her story isn’t about survival alone. It’s about turning a system designed to erase women into one that educates them.

Water-intake in Winter - Jan'26


 WATER-INTAKE IN WINTER :

How much water should we drink in winter? The answer is, not more but not even less. Most people drink very less water in winter just because they don't feel thirsty. In some cases, this can even cause jaundice.
Personally, I drink seven glasses of water in winter. In summers, one should drink more than 12 glasses but it also depends on individual needs and condition of the person. Drinking ample water is necessary for good health. One should study this topic from different sources and then try to adopt the right practice.
- SRA.


Monday, 29 December 2025

Quaid-e-Azam - An interesting account - Dec.'25


QUAID-E-AZAM - AN INTERESTING ACCOUNT

 قائداعظم سفرِ ریل کے دوران اپنے لیے دو برتھیں مخصوص کرایا کرتے تھے۔

ایک مرتبہ کسی نے ان سے وجہ دریافت کی تو جواب میں انھوں نے یہ واقعہ سنایا ’’میں پہلے ایک ہی برتھ مخصوص کراتا تھا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے، میں لکھنٔو سے بمبئی جا رہا تھا۔
کسی چھوٹے سے اسٹیشن پر ریل رکی تو ایک اینگلو انڈین لڑکی میرے ڈبے میں آکر دوسری برتھ پر بیٹھ گئی۔
چونکہ میں نے ایک ہی برتھ مخصوص کرائی تھی، اس لیے خاموش رہا
ریل نے رفتار پکڑی تو اچانک وہ لڑکی بولی ’’تمھارے پاس جو کچھ ہے فوراً میرے حوالے کردو، ورنہ میں ابھی زنجیر کھینچ کر لوگوں سے کہوں گی کہ یہ شخص میرے ساتھ زبردستی کرنا چاہتا ہے۔‘‘
میں نے کاغذات سے سر ہی نہیں اٹھایا۔اُس نے پھر اپنی بات دہرائی۔ میں پھر خاموش رہا۔
آخر تنگ آ کر اُس نے مجھے جھنجھوڑا تو میں نے سر اٹھایا اور اشارے سے کہا ’’میں بہرہ ہوں، مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا۔
جو کچھ کہنا ہے، لکھ کر دو۔‘‘اُس نے اپنا مدعا کاغذ پر لکھ کر میرے حوالے کر دیا۔
میں نے فوراً زنجیر کھینچ دی اور اسے مع تحریر ریلوے حکام کے حوالے کردیا۔
اس دن کے بعد سے میں ہمیشہ دو برتھیں مخصوص کراتا ہوں۔‘‘😀

ایک بار قائد اعظم محمد علی جناح سکول و کالج کے طلبا سے خطاب کر رہے تھے
ایک ہندو لڑکے نے کهڑے ہو کر آپ سے کہا کہ آپ ہندوستان کا بٹوارہ کر کے ہمیں کیوں تقسیم کرنا چاہتے ہیں
آپ میں اور ہم میں کیا فرق ہے ؟
آپ کچھ دیر تو خاموش رہے , تو سٹوڈنٹس نے آپ پر جملے کسنے شروع کر دئیے ,
کچھ نے کہا کہ آپ کے پاس اس کا جواب نہیں , اور پهر ہر طرف سے ہندو لڑکوں کی ہوٹنگ اور قہقہوں کی آوازیں سنائی دے رہیں تھیں
قائد اعظم نے ایک پانی کا گلاس منگوایا , آپ نے تهوڑا سا پانی پیا پهر اسکو میز پر رکھ دیا ,
آپ نے ایک ہندو لڑکے کو بلایا اور اسے باقی بچا ہوا پانی پینے کو کہا , تو ہندو لڑکے نے وہ پانی پینے سے انکار کر دیا ,
پهر آپ نے ایک مسلمان لڑکے کو بلایا , آپ نے وہی بچا ہوا پانی اس مسلم لڑکے کو دیا ,
تو وہ فوراً قائد اعظم کا جوٹها پانی پی گیا
آپ پهر سب طلباء سے مخاطب ہوئے اور فرمایا , یہ فرق ہے آپ میں اور ہم میں ہر طرف سناٹا چھا گیا۔
کیونکہ سب کے سامنے فرق واضح ہو چکا تها
محمد علی جناح نے کبهی کسی کو گالی نہ دی اور نہ کبهی آپ نے بداخلاقی کی
آپ اپنی بات اس قدر ٹهوس دلائل سے پیش کرتے تهے
کہ بڑے بڑے منہ میں انگلیاں دبا لیتے اور آپ کے سامنے لاجواب ہو جاتے
قائد اعظم سے لوگوں کی محبت کا یہ عالم تھا
کہ اگر کوئی آپ سے ہاتھ ملا لیتا تو وہ خوشی سے پھولا نہ سماتا , اور سارا دن لوگوں کو بتاتا پهرتا کہ آج میں نے قائد اعظم سے ہاتھ ملایا ہے
قائد اعظم محمد علی جناح اتنی مخالفت کے باوجود ایک دن کے لیے بھی جیل نہیں گئے۔
اور کبھی بھی ایسے الفاظ اپنے منہ سے نہیں نکالے
جن کے بعد یہ کہنا پڑے کہ میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔