
بسم اللہ الرحمن الرحیم
“تکبیرِ اُولیٰ“ - TAKBEER-E-OOLA
سوال : الحمدللہ آج سات روزے پورے ہو گئے - ہمارا آج کا سوال ہے کہ نماز میں “تکبیرِ اُولیٰ“ کا کیا معنی ہے ؟ اس پر تھوڑی روشنی ڈالیں -
جواب : باجماعت نماز شروع کراتے وقت امام جو پہلی تکبیر کہتا ہے “اللہ اکبر“ اور اس کے بعد سب ہاتھ باندھ لیتے ہیں ، اسے “تکبیرِ اُولیٰ“ کہتے ہیں - اس کا بہت ثواب ہے -
سوال : کیا ثواب ہے - بتائیے
جواب : ایک دفعہ میں جنید جمشید مرحوم کا بیان سن رہا تھا تو وہ فرما رہے تھے کہ “ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا ‘یا رسول اللہ میں بارش کے تمام قطرے تو گن سکتا ہوں لیکن “تکبیرِ اُولیٰ“ کے ساتھ پڑھی ہوئی ایک نماز کے ثواب کا اندازہ نہیں لگا سکتا‘
سوال : تو کیا مسلمان پر فرض ہے کہ وہ ہمیشہ “تکبیرِ اُولیٰ“ کے ساتھ نماز پڑھے؟
جواب : ایسا میں نے نہیں کہا ۔ دیکھیں اسلام میں ہر چیز توازن سے کرنی چاہیئے - اب یہ بھی نہ ہو کہ حقوق العباد کے معاملے میں کوتاہی ہو لیکن مسلمان ساری نمازیں “تکبیرِ اُولیٰ“ کے ساتھ پڑھتا رہے ۔ بحرحال اگر علم ہو تو مسلمان کوشش بھی کرسکتا ہے ۔ باقی یہ کہ کبھی باجماعت نماز بھی رہ جاتی ہے تو اکیلے نماز ادا کر لے - لیکن کوشش کرتا رہے کہ مسجد جا کر “تکبیرِ اُولیٰ“ کے ساتھ نماز پڑھے - یا بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ “تکبیرِ اُولیٰ“ میں شامل نہ ہوسکے اور بعد میں جماعت میں شامل ہو گئے - کیونکہ باجماعت نماز کا ثواب اکیلے پڑھنے سے پھر بھی کافی زیادہ ہے - ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن سات طرح کے لوگ اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے تلے ہوں گے ، جس دن سورج بہت قریب آجائے گا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا ۔ ان میں سے ایک قسم ان لوگوں کی ہوگی جن کا دل مسجد سے جڑا ہوا ہو گا ۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ قیامت کے دن نمازیں ضرور کام آئیں گی لیکن ساتھ میں ہمیں یہ کوشش کرتے رہنا ہے کہ اچھا انسان بنیں اور کسی کی حق تلفی نہ ہو - دوسرا یہ کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات کچھ ضروری دنیاوی معاملات یا مصروفیات کے پیش نظر نماز رہ جاتی ہے ۔ پھر وہ بعد میں ادا کر سکتے ہیں ۔
سوال : جزاک اللہ خیر صوفی صاحب - آپ نے اچھی رہنمائی کی -
25th Feb, 2026
No comments:
Post a Comment