Showing posts with label Urdu. Show all posts
Showing posts with label Urdu. Show all posts

Friday, 10 July 2026

Plants Destroyed in Pak - Jul11,'26


 نہر کنارے سو سے زائد پودے - خواب کو چکنا چور

کسی لعنتی بدبخت نے حسد میں آکر نہر کنارے سو سے زائد پودے، ایک شخص کی راتوں کی نیند اور دن کا پسینہ — سب کچھ چند لمحوں میں اکھاڑ پھینکا گیا۔ اس بدبخت کو آخر کتنا فائدہ ہوا ہوگا؟

نہر کے کنارے، جہاں کبھی صرف خشک مٹی اور ویرانی کا راج تھا، وہاں غلام رسول پاکستانی نامی ایک عام سے شخص نے خواب دیکھا — ایک ایسا خواب جو اپنے لیے نہیں، آنے والی نسلوں کے لیے تھا۔ اس نے اپنا وقت، اپنی محنت اور اپنی جیب سے پیسے لگا کر سو سے زائد پودے لگائے۔ نہ کسی نے اسے کہا، نہ کسی نے مجبور کیا۔ یہ خالص محبت تھی، مٹی سے، ماحول سے، اور اس قوم کے مستقبل سے۔ ہر صبح وہ ان پودوں کو پانی دیتا، ہر شام انہیں دیکھ کر دل ہی دل میں سکون محسوس کرتا۔ یہ صرف پودے نہیں تھے، یہ اس کی امیدیں تھیں جو زمین میں جڑ پکڑ رہی تھیں۔

مگر قسمت یا شاید کچھ بے حس ہاتھوں نے اس خواب کو چکنا چور کر دیا۔ کسی نامعلوم اور غیر ذمہ دار شخص نے، جسے نہ ماحول کی فکر تھی نہ کسی کی محنت کا احساس، رات کی تاریکی میں یا دن کی روشنی میں — یہ ابھی تک واضح نہیں — ان سو سے زائد پودوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا۔ یہ عمل صرف پودوں کی تباہی نہیں، یہ ایک انسان کے جذبے، وقت اور امید کا قتل تھا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ حرکت جان بوجھ کر کی گئی یا کسی غفلت کا نتیجہ تھی — اور جب تک تحقیقات مکمل نہ ہوں، کسی مخصوص فرد یا گروہ پر الزام لگانا مناسب نہیں۔

شجر دوست ٹیم سہارا نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور غلام رسول پاکستانی صاحب سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ ان کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس نیک انسان کی محنت کو قبول فرمائے اور اسے دوبارہ ہمت دے کہ وہ پہلے سے بھی بڑھ کر شجرکاری کرے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ چند بدنیت افراد کبھی بھی اچھے لوگوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ جو لوگ زمین میں سبزہ بوتے ہیں، وہ دراصل قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

یہاں سوال صرف ایک شخص کے نقصان کا نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری کا ہے۔ متعلقہ اداروں اور مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ عوامی مقامات پر لگائے گئے پودوں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کیمرے، نگرانی کا نظام اور واضح قوانین بنائیں۔ جو لوگ ثابت شدہ طور پر ایسی حرکتوں میں ملوث پائے جائیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے، تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص ماحول دشمنی کی جرأت نہ کرے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ کارروائی صرف ثبوت اور تحقیق کی بنیاد پر ہو، نہ کہ الزام تراشی یا افواہوں پر۔

یہ واقعہ ہم سب کے لیے ایک سبق ہے۔ اگر ہم نے کسی کو درخت کاٹتے، اکھاڑتے یا نقصان پہنچاتے دیکھا اور خاموش رہے، تو ہم بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ درخت لگانے والے ہمارے محسن ہیں، اور محسنوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے، نہ کہ ان کی حوصلہ شکنی۔ آئیے عہد کریں کہ ہم خاموش تماشائی نہیں بنیں گے، بلکہ ماحول کے محافظ بنیں گے — کیونکہ ایک درخت کی حفاظت دراصل ایک نسل کی حفاظت ہے۔

- July 2026

Eucalyptus (Sufaida) Tree - Disadvantages -Jul'26


 Eucalyptus (Sufaida) Tree - Disadvantages for Pakistan
[Non-native Tree]

سفیدہ یہاں کا مقامی درخت نہیں ہے۔ یہ آسٹریلیا اور تسمانیہ کا مقامی درخت ہے۔
1980 کی دہائی میں Pakistan Forest Institute کی طرف سے USAID کے تعاون سے لگایا گیا تھا۔
یہ درخت اپنی لمبائی میں کھجور کے درخت کی طرح بہت اونچا ہوتا ہے۔ اس کی لکڑی نرم اور سیدھی ہوتی ہے۔ اس درخت میں نہ پھل لگتا ہے اور نہ ہی اس سے سائے کی امید رکھی جا سکتی ہے۔
یہ درخت زیر زمین پانی کھارا کرنے کی قدرتی مشین ھے اور یہ روزانہ بہت پانی پیتا ھے۔ اس کے پتے جہاں کرتے ھین وھاں کوئ بھی فصل نہین اگتی۔ اور یہ گرمی مین خود ھی ٹوٹ کہ گرتا ھے۔ اس درخت کی فوائد کم نقصانات زیادہ ھوتے ھین۔

Wednesday, 17 June 2026

Trees - Asset Next Generation - Jun18,'26



TREES - ASSET FOR COMING GENERATIONS
درخت صرف زمین پر کھڑے پودے نہیں ہوتے، یہ آنے والی نسلوں کے لیے سانس، سایہ اور امید کا ذخیرہ ہوتے ہیں۔ جو قومیں درخت لگاتی ہیں، وہ اپنے بچوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔

Friday, 1 May 2026

Zahir per na jao - May02,'26

 

کسی کا ظاہر نہ دیکھو، انجام دیکھو "
ایک دن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد کے قریب کچھ صحابہ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ نبی کریم ﷺ وہاں سے گزرے۔ آپ ﷺ نے ان پر ایک نظر ڈالی، اور آپ کے چہرے کے تاثرات لمحہ بھر کے لیے بدلے۔ پھر آپ ﷺ نے ایک عجیب وغریب بات کہی1
تم میں ایک ایسا شخص ہے جس کا دانت جہنم میں احد پہاڑ سے بھی بڑا ہوگا۔
یہ الفاظ سن کر صحابہ کرام سکتے میں آ گئے۔ نبی ﷺ تو جا چکے تھے، لیکن ان کا یہ فرمان ہر دل میں نقش ہو گیا۔ ہر شخص اپنے دل میں سوال کرنے لگا یہ بدبخت کون ہوگا؟
وقت گزرتا گیا، اور برسوں بعد وہ تمام صحابہ ایمان شہادت اور خیر کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ صرف ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور بنی حنیفہ کے رجال بن عنفوه باقی رہ گئے۔
رجال بن عنفوہ ایک عابد زاہد قاری اور فقیہ کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ نبی کریم ﷺ کے قریب رہے، قرآن حفظ کیا دین سیکھا، اور عبادت میں سخت محنت کی۔ صحابہ انہیں عبادت و تقویٰ میں ممتاز سمجھتے تھے۔ حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
ہم رجال بن عنفوہ کو اپنے وفد کے سب سے بہترین" افراد میں شمار کرتے تھے، وہ حافظ قرآن قیام کرنے والا اور روزے رکھنے والا تھا۔
لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے دل میں نبی کریم ﷺ کی وہ پیشین گوئی زندہ تھی۔ جب بھی وہ رجال بن عنفوہ کو دیکھتے، تو سوچنے لگتے ! اگر یہ جہنم میں جانے والا نہیں، تو پھر میں ہوں یہ خوف ان پر طاری رہتا کیونکہ وہ اور رجال ہی باقی رہ گئے تھے، اور رجال کی ظاہری حالت تو کسی ولی الله سے کم نہ تھی۔
بہتان، لالچ اور ایمان کا سودا "
پھر مسیلمہ کذاب نے یمامہ میں نبوت کا دعویٰ کیا، اور بہت سے لوگ اس کے جال میں پھنس گئے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رجال بن عنفوہ کو وہاں بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو حق پر ثابت قدم رکھیں۔
لیکن جب مسیلمہ کذاب نے رجال بن عنفوہ کو دیکھا تو چالاکی دولت اور اقتدار کے ذریعے اس کے دل میں لالچ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ پہلے سونے اور چاندی کی رشوت دی مگر رجال نے انکار کر دیا۔ پھر کہا
اگر تم لوگوں سے کہہ دو کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے" بھی نبوت میں شریک کیا تھا تو میں تمہیں آدھی بادشاہت دے دوں گا۔
یہ سن کر رجال بن عنفوہ کے قدم ڈگمگانے لگے۔ اس نے اپنے ایمان قرآن اور نبی کریم ﷺ کی محبت کو بیچ دیا اور لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان کیا میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ مسیلمہ بھی" ان کے ساتھ نبی ہے
یہ الفاظ قیامت سے کم نہ تھے۔ ایک ایسے شخص کا جھوٹا گواہ بن جانا، جو خود نبی کریم ﷺ کے قریب رہا ہو، عبادت گزار ہو، زاہد ہو، قرآن کا حافظ ہو یہ امت کے لیے بہت بڑی آزمائش بن گئی۔
یہ جھوٹ ایسا پھیلا کہ آدھے دن میں ہزاروں لوگ مسیلمہ کے پیروکار بن گئے اور یوں، رجال بن عنفوہ کی گمراہی، مسیلمہ کذاب سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوئی۔
حق ہمیشہ غالب آتا ہے"
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لشکر روانہ کیا۔ یمامہ میں شدید جنگ ہوئی اور مسیلمہ اپنے پیروکاروں سمیت ہلاک کر دیا گیا۔ رجال بن عنفوہ بھی شرک و کفر کی حالت میں مارا گیا۔
جب یہ خبر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ سجدے میں گر کر زار و قطار رونے لگے مگر یہ شکر اور خوشی کے آنسو تھے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کی بات حرف بہ حرف پوری ہو چکی تھی۔ وہ جس عذاب سے ڈرتے رہے، اللہ نے انہیں اس سے محفوظ رکھا۔
: سبق جو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے
ظاہری عبادت پر نہ جاؤ، انجام پر نظر رکھو .
عبادت زہد اور علم پر کبھی غرور نہ کرو، بلکہ اللہ سے .
استقامت اور حسن خاتمہ مانگو۔
کسی گناہگار کو حقیر نہ سمجھو، ہوسکتا ہے اللہ اسے .
معاف کر دے اور تمہیں آزمائش میں ڈال دے۔
الله کی رحمت مانگو اور ہمیشہ حق پر ڈٹے رہو . کیونکہ ایمان کا اصل امتحان آخری سانس پر ہوتا ہے۔
"اللهم ارزقنا حسن الخاتمة"
ترجمہ
اے اللہ ہمیں اچھا انجام عطا فرما )

- COPIED FROM A RANDOM POST ON FACEBOOK

Sen. Mushtaq's Mission - May'26


 تحریر: جناب آصف محمود

ایسا نہیں ہے کہ سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب نے کہیں سے ایک کشتی تلاش کی ہو اور اسے سمندر میں ڈال دیا ہو کہ میں غ زہ جا رہا ہوں . یہ یورپ کے بہت سارے ممالک کے ڈھیر سارے لوگوں کی مشترکہ کاوش ہے کہ ہم بنی نوع انسان کے گونگے پن کا کفارہ ادا کرنے اس محاصرے کو توڑ کر غ زہ جائیں گے.
یہ ایک علامتی قدم ہوتا ہے، جانے والوں کو بھی معلوم ہوتا ہے نہ انہیں کسی نے غ زہ جانے دینا ہے نہ سامان پہنچنے دینا ہے. جانے والے مگر ہھر بھی جان کا خطرہ مول لیتے ہیں اور پلے سے لاکھوں لگا کر جاتے ہیں. انہیں خوب معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اس رائیل کو روکنے والا کوئی نہیں وہ کچھ بھی کر سکتا ہے. لیکن وہ پھر بھی یہ خطرہ مول لیتے ہیں.
کیوں؟ کیونکہ اس علامتی اقدام کی بھی ایک اہمیت ہوتی ہے. جب اقوام متحدہ بے بس ہو ، جب اقوام عالم لاتعلق ہوں، جب مظلوموں کی خبریں شائع ہونا بھی بند ہو چکی ہوں، جب دنیا نے اس د ر ن د گی کو نیو نارمل سمجھ لیا ہو ایسے میں کچھ لوگ ، کچھ نہتے لوگ یورپ کے بہت سے ممالک سے نکلے، ان سے قیمتی کون ہو سکتا ہے.
یہ مسلمانوں کا قافلہ نہیں ہے، اکثریت غیر مسلم ہیں، یہ مسلمانوں کے ملکوں سے نہیں نکلے یہ یورپ سےنکلے ہیں ، ان کے ساتھ پاکستان سے بھی ایک شخص جا کر شامل ہو گیا ہے. یہ کوئی پکنک نہیں کہ کسی نے واپس آ کر اسے کیش کرانا ہو. یہ جان ہتھیلی پر رکھ کر، کرنے والا سفر ہے. اس کے مسافر عام لوگ نہیں، یہ گونگی دنیا کا کفارہ ادا کرنے والے قیمتی لوگ ہیں.
رات گئے اس قافلے پر حملہ ہوا ہے. صبح اٹھا تو دیکھا مشتاق صاحب کی کال آئی ہوئی تھی ، ساتھ ایک میسج بھی تھا کہ یونان سے ذرا پہلے بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا پر حم لہ کر دیا گیا ہے.
اس کے بعد سے ان کے ساتھ میرا کوئی رابطہ نہیں. فون آف یے، واٹس ایپ پر بھیجے گئے ابھی تک ان سین ہیں. کچھ معلوم نہیں قافلے کے ساتھ کیا ہوا.
سینیٹر صاحب کی فیس بک وال دیکھی، وہاں ایک گروہ نے اپنی عصبیت کا اودھم مچا رکھا ہے. اس وقت بھی یہ لوگ سیاسی گروہی عصبیت کی ہوجا کر رہے ہیں اور وہ زہر اگل رہے ہیں کہ الامان . ابولکلام نے کہا تھا سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، لگتا ہے اس کی آنکھ سے حیا اور شرم بھی اٹھ چکی.
سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب کے لیے اس فلوٹیلا کے ہر مسافر کے لیے ان سب کی سلامتی کے لیے دعا کیجیے، یہ لوگ ہمارے گونگے ہن کا کفارہ ہیں.

Friday, 24 April 2026

Wednesday, 25 February 2026

“تکبیرِ اُولیٰ“ - TAKBEER-E-OOLA - Feb26,'26

بسم اللہ الرحمن الرحیم

“تکبیرِ اُولیٰ“ - TAKBEER-E-OOLA

سوال : الحمدللہ آج سات روزے پورے ہو گئے - ہمارا آج کا سوال ہے کہ نماز میں “تکبیرِ اُولیٰ“ کا کیا معنی ہے ؟ اس پر تھوڑی روشنی ڈالیں -

جواب : باجماعت نماز شروع کراتے وقت امام جو پہلی تکبیر کہتا ہے “اللہ اکبر“ اور اس کے بعد سب ہاتھ باندھ لیتے ہیں ، اسے “تکبیرِ اُولیٰ“ کہتے ہیں - اس کا بہت ثواب ہے -

سوال : کیا ثواب ہے - بتائیے

جواب : ایک دفعہ میں جنید جمشید مرحوم کا بیان سن رہا تھا تو وہ فرما رہے تھے کہ “ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا ‘یا رسول اللہ میں بارش کے تمام قطرے تو گن سکتا ہوں لیکن “تکبیرِ اُولیٰ“ کے ساتھ پڑھی ہوئی ایک نماز کے ثواب کا اندازہ نہیں لگا سکتا‘

سوال : تو کیا مسلمان پر فرض ہے کہ وہ ہمیشہ “تکبیرِ اُولیٰ“ کے ساتھ نماز پڑھے؟

جواب : ایسا میں نے نہیں کہا ۔ دیکھیں اسلام میں ہر چیز توازن سے کرنی چاہیئے - اب یہ بھی نہ ہو کہ حقوق العباد کے معاملے میں کوتاہی ہو لیکن مسلمان ساری نمازیں “تکبیرِ اُولیٰ“ کے ساتھ پڑھتا رہے ۔ بحرحال اگر علم ہو تو مسلمان کوشش بھی کرسکتا ہے ۔ باقی یہ کہ کبھی باجماعت نماز بھی رہ جاتی ہے تو اکیلے نماز ادا کر لے - لیکن کوشش کرتا رہے کہ مسجد جا کر “تکبیرِ اُولیٰ“ کے ساتھ نماز پڑھے - یا بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ “تکبیرِ اُولیٰ“ میں شامل نہ ہوسکے اور بعد میں جماعت میں شامل ہو گئے - کیونکہ باجماعت نماز کا ثواب اکیلے پڑھنے سے پھر بھی کافی زیادہ ہے - ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن سات طرح کے لوگ اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے تلے ہوں گے ، جس دن سورج بہت قریب آجائے گا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا ۔ ان میں سے ایک قسم ان لوگوں کی ہوگی جن کا دل مسجد سے جڑا ہوا ہو گا ۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ قیامت کے دن نمازیں ضرور کام آئیں گی لیکن ساتھ میں ہمیں یہ کوشش کرتے رہنا ہے کہ اچھا انسان بنیں اور کسی کی حق تلفی نہ ہو - دوسرا یہ کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات کچھ ضروری دنیاوی معاملات یا مصروفیات کے پیش نظر نماز رہ جاتی ہے ۔ پھر وہ بعد میں ادا کر سکتے ہیں ۔

سوال : جزاک اللہ خیر صوفی صاحب - آپ نے اچھی رہنمائی کی -

25th Feb, 2026 


Wednesday, 4 February 2026

Celebrating Basant - Feb05,'26

 

ثقافت کو فروغ دیں، جانی نقصان اور تباہی کو نہیں! یہ ملک واقعی کمال ہے! تعلیم پہلے ہی سانسیں گن رہی ہے، مگر ہم نے سوچا کیوں نہ ایک اور تہوار ڈال کر اسے مکمل آرام دے دیا جائے۔ بسنت پر پچیس سال پرانی پابندی اب یادوں کا حصہ بن گئی ہے۔ وہ جانیں، وہ بجلی کے نظام، وہ حادثے سب شاید پرانی فائلوں میں دب گئے۔
اب خوشی دگنی ہے کیونکہ بسنت کے ساتھ ہفتہ اتوار بھی شامل ہیں۔ یعنی چار دن کی چھٹیاں۔ پڑھائی ویسے ہی مشکل لگتی تھی، اب کم از کم تسلسل کا جھنجھٹ بھی ختم۔
کہا جا رہا ہے کہ بسنت سے معیشت چلے گی۔ پتنگ بکے گی، ڈور بکے گی، بازار گرم ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں مگر یہ خرچ پیداواری نہیں ہوتا۔ یہ پیسہ نہ نئی صنعت بناتا ہے، نہ مستقل روزگار پیدا کرتا ہے، نہ معیشت کو آگے لے جاتا ہے۔ چند دن کی خرید و فروخت ہوتی ہے، پھر سب کچھ ویسے کا ویسا۔ معیشت مضبوط تب ہوتی ہے جب سرمایہ تعلیم، ہنر اور کاروبار میں لگے، نہ کہ ڈور اڑانے میں۔
اصل مسئلہ شاید اس سے بھی گہرا ہے۔ ہماری قوم اسراف کی بیماری میں مبتلا ہے۔ کھلے خرچے، شاہ خرچیاں اور وقتی نمائش۔ دوسری طرف یہ حالت ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ بھوکے ہیں، نوکریاں نہیں، روزگار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں۔ ایک طرف چند دن کی تفریح پر کروڑوں اربوں، اور دوسری طرف دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد۔
اور یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مسلم امہ شدید بحران سے گزر رہی ہے۔ ف- ل- س- ط - ی-ن -ی تاریخ کے بدترین حالات میں ہیں، روزانہ جانیں جا رہی ہیں، گھر مٹ رہے ہیں۔ اور ہم ایک غیر پیداواری اور ماضی میں جان لیوا ثابت ہونے والے تہوار پر جشن منا رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ خوشی منانا غلط ہے، سوال یہ ہے کہ ترجیحات کہاں کھڑی ہیں۔
یہ سب دیکھ کر رومن یاد آتے ہیں ۔ جب وہ روٹی اور مقصدیت کم اور تماشے زیادہ دیتے تھے -
ہم نے بھی قوم کی حیثیت سے شاید وہی ماڈل اپنا لیا ہے۔ معیشت، تعلیم، روزگار، صحت اور امت کا درد بعد میں۔ پہلے پتنگ، ڈور اور رنگین آسمان۔
براہِ کرم اس بات کو دوبارہ پڑھیں اور جذبات یا مذہب کو درمیان میں لائے بغیر صرف دلائل اور حقائق پر جواب دیں۔ بات بالکل سادہ ہے۔
اگر صرف ایک انسان بھی اس وجہ سے مر جائے یا شدید زخمی ہو جائے تو یہی اس تقریب کو ہمیشہ کے لیے روکنے کے لیے کافی ہے۔ اگر بسنت منانی ہے تو کم از کم شہری اور رہائشی علاقوں میں پتنگ بازی کے بغیر منائی جائے۔
یہ صرف قانون یا انتظامیہ کا مسئلہ نہیں، یہ اجتماعی اخلاقیات اور اجتماعی ضمیر کا معاملہ ہے جو بدقسمتی سے کہیں گم ہو چکا ہے۔ ماضی میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگ اس وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں یا عمر بھر کے لیے معذور ہوئے ہیں، اور میں یہاں مالی نقصانات یا املاک کے ضیاع کی بات بھی نہیں کر رہا۔
کیا یہ سب کافی نہیں؟
آخر کتنی مزید جانیں جائیں، کتنے مزید لوگ معذور ہوں، تب جا کر ہم رکیں گے؟
آخر میں ایک سادہ سا سوال۔ ہماری ترجیحات، غیرت، وقار، ایمان اور یکجہتی کہاں کھو گئی؟
ان سب کی فیملیز کو جواب ضرور دیں اور بسنت منانے کی ترغیب بھی دیں
 
Few of the Basant Fatalities (2004)
1. Asif Ali, 19 – Fatally electrocuted chasing kite in Faisal Town, Lahore (16 Feb 2004)
2. Chand, 30 (rickshaw driver) – Electrocution, Shalamar, Lahore (16 Feb 2004)
3. Arslan, 10 – Electrocuted, Sherakot, Lahore (16 Feb 2004)
4. Ishfaq Ahmad, 22 – Electrocution, Green Town, Lahore (16 Feb 2004)
5. Shabbir Ahmad – Road accident while chasing kite, near Lorry Adda, Lahore (16 Feb 2004)
6. Shan, 9 – Hit by van while chasing kite, Multan Road, Lahore (16 Feb 2004)
7. Sharif, 18 – Fell from rooftop, Gowalmandi, Lahore (16 Feb 2004)
8. Mustafa Ahmad, 15 – Fell from rooftop, Gujjarpura, Lahore (16 Feb 2004)
9. Rizwan, 8 – Fell from rooftop, New Muslim Town, Lahore (16 Feb 2004)
---
Lahore Basant Fatalities (2007)
10. Umer Farooq, 11 – Throat slashed by kite string, Gulshan-i-Ravi, Lahore (25 Feb 2007)
11. Haider Ali – Killed by stray bullet, New Samanabad, Lahore (25 Feb 2007)
12. Hassan Nadeem, 8 – Stray bullet wound, Mozang, Lahore (25 Feb 2007)
13. Danish, 13 – Fell from rooftop, Baghbanpura, Lahore (25 Feb 2007)
14. Maryam, 8 – Stray bullet, Garden Town, Lahore (25 Feb 2007)
15. Naheed Taranum, 50 – Fell from rooftop, Rang Mahal, Lahore (25 Feb 2007)
16. Shareef, 14 – Fell from rooftop, Shafiqabad, Lahore (25 Feb 2007)
17. Imran, 20 – Run over chasing kite, Defence Road, Lahore (25 Feb 2007)
18. Saif, 8 – Killed attempting to retrieve kite, Faisal Town, Lahore (25 Feb 2007)
---
Rawalpindi Basant Fatalities and Injuries (2023)
19. Akram Afzal, 20 – Stray bullet death, Ratta Amral, Rawalpindi (Feb 2023)
20. Wani, 7 – Stray bullet death, Mohanpura, Rawalpindi (Feb 2023)
21. Kamal Ali, 14 – Electrocution, Fazalabad, Rawalpindi (Feb 2023)
22. Arham Fazal, 20 – Killed by bullet, Thana Airport area, Rawalpindi (Basant)
---
Rawalpindi Basant Death and Injury Report (2024)
23. Unidentified Man (65) – Fatal fall from rooftop while kite flying, Rawalpindi (24 Feb 2024)
24. At least 35 others injured – Multiple injuries from stray bullets, kite strings and falls, Rawalpindi (24 Feb 2024)
---
Other Historic Rawalpindi Basant Cases
25. Mohammad Usman, 12 – Electrocuted while catching kite, Dhoke Kala Khan, Rawalpindi (Feb 2021)
26. Unspecified number of injured individuals (2021) – 165 injured from stray bullets and kite strings in Rawalpindi (2021 Basant)