کسی کا ظاہر نہ دیکھو، انجام دیکھو "
ایک دن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد کے قریب کچھ صحابہ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ نبی کریم ﷺ وہاں سے گزرے۔ آپ ﷺ نے ان پر ایک نظر ڈالی، اور آپ کے چہرے کے تاثرات لمحہ بھر کے لیے بدلے۔ پھر آپ ﷺ نے ایک عجیب وغریب بات کہی1
تم میں ایک ایسا شخص ہے جس کا دانت جہنم میں احد پہاڑ سے بھی بڑا ہوگا۔
یہ الفاظ سن کر صحابہ کرام سکتے میں آ گئے۔ نبی ﷺ تو جا چکے تھے، لیکن ان کا یہ فرمان ہر دل میں نقش ہو گیا۔ ہر شخص اپنے دل میں سوال کرنے لگا یہ بدبخت کون ہوگا؟
وقت گزرتا گیا، اور برسوں بعد وہ تمام صحابہ ایمان شہادت اور خیر کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ صرف ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور بنی حنیفہ کے رجال بن عنفوه باقی رہ گئے۔
رجال بن عنفوہ ایک عابد زاہد قاری اور فقیہ کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ نبی کریم ﷺ کے قریب رہے، قرآن حفظ کیا دین سیکھا، اور عبادت میں سخت محنت کی۔ صحابہ انہیں عبادت و تقویٰ میں ممتاز سمجھتے تھے۔ حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
ہم رجال بن عنفوہ کو اپنے وفد کے سب سے بہترین" افراد میں شمار کرتے تھے، وہ حافظ قرآن قیام کرنے والا اور روزے رکھنے والا تھا۔
لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے دل میں نبی کریم ﷺ کی وہ پیشین گوئی زندہ تھی۔ جب بھی وہ رجال بن عنفوہ کو دیکھتے، تو سوچنے لگتے ! اگر یہ جہنم میں جانے والا نہیں، تو پھر میں ہوں یہ خوف ان پر طاری رہتا کیونکہ وہ اور رجال ہی باقی رہ گئے تھے، اور رجال کی ظاہری حالت تو کسی ولی الله سے کم نہ تھی۔
بہتان، لالچ اور ایمان کا سودا "
پھر مسیلمہ کذاب نے یمامہ میں نبوت کا دعویٰ کیا، اور بہت سے لوگ اس کے جال میں پھنس گئے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رجال بن عنفوہ کو وہاں بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو حق پر ثابت قدم رکھیں۔
لیکن جب مسیلمہ کذاب نے رجال بن عنفوہ کو دیکھا تو چالاکی دولت اور اقتدار کے ذریعے اس کے دل میں لالچ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ پہلے سونے اور چاندی کی رشوت دی مگر رجال نے انکار کر دیا۔ پھر کہا
اگر تم لوگوں سے کہہ دو کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے" بھی نبوت میں شریک کیا تھا تو میں تمہیں آدھی بادشاہت دے دوں گا۔
یہ سن کر رجال بن عنفوہ کے قدم ڈگمگانے لگے۔ اس نے اپنے ایمان قرآن اور نبی کریم ﷺ کی محبت کو بیچ دیا اور لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان کیا میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ مسیلمہ بھی" ان کے ساتھ نبی ہے
یہ الفاظ قیامت سے کم نہ تھے۔ ایک ایسے شخص کا جھوٹا گواہ بن جانا، جو خود نبی کریم ﷺ کے قریب رہا ہو، عبادت گزار ہو، زاہد ہو، قرآن کا حافظ ہو یہ امت کے لیے بہت بڑی آزمائش بن گئی۔
یہ جھوٹ ایسا پھیلا کہ آدھے دن میں ہزاروں لوگ مسیلمہ کے پیروکار بن گئے اور یوں، رجال بن عنفوہ کی گمراہی، مسیلمہ کذاب سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوئی۔
حق ہمیشہ غالب آتا ہے"
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لشکر روانہ کیا۔ یمامہ میں شدید جنگ ہوئی اور مسیلمہ اپنے پیروکاروں سمیت ہلاک کر دیا گیا۔ رجال بن عنفوہ بھی شرک و کفر کی حالت میں مارا گیا۔
جب یہ خبر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ سجدے میں گر کر زار و قطار رونے لگے مگر یہ شکر اور خوشی کے آنسو تھے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کی بات حرف بہ حرف پوری ہو چکی تھی۔ وہ جس عذاب سے ڈرتے رہے، اللہ نے انہیں اس سے محفوظ رکھا۔
: سبق جو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے
ظاہری عبادت پر نہ جاؤ، انجام پر نظر رکھو .
عبادت زہد اور علم پر کبھی غرور نہ کرو، بلکہ اللہ سے .
استقامت اور حسن خاتمہ مانگو۔
کسی گناہگار کو حقیر نہ سمجھو، ہوسکتا ہے اللہ اسے .
معاف کر دے اور تمہیں آزمائش میں ڈال دے۔
الله کی رحمت مانگو اور ہمیشہ حق پر ڈٹے رہو . کیونکہ ایمان کا اصل امتحان آخری سانس پر ہوتا ہے۔
"اللهم ارزقنا حسن الخاتمة"
ترجمہ
اے اللہ ہمیں اچھا انجام عطا فرما )
- COPIED FROM A RANDOM POST ON FACEBOOK

No comments:
Post a Comment