Friday, 10 July 2026

Plants Destroyed in Pak - Jul11,'26


 نہر کنارے سو سے زائد پودے - خواب کو چکنا چور

کسی لعنتی بدبخت نے حسد میں آکر نہر کنارے سو سے زائد پودے، ایک شخص کی راتوں کی نیند اور دن کا پسینہ — سب کچھ چند لمحوں میں اکھاڑ پھینکا گیا۔ اس بدبخت کو آخر کتنا فائدہ ہوا ہوگا؟

نہر کے کنارے، جہاں کبھی صرف خشک مٹی اور ویرانی کا راج تھا، وہاں غلام رسول پاکستانی نامی ایک عام سے شخص نے خواب دیکھا — ایک ایسا خواب جو اپنے لیے نہیں، آنے والی نسلوں کے لیے تھا۔ اس نے اپنا وقت، اپنی محنت اور اپنی جیب سے پیسے لگا کر سو سے زائد پودے لگائے۔ نہ کسی نے اسے کہا، نہ کسی نے مجبور کیا۔ یہ خالص محبت تھی، مٹی سے، ماحول سے، اور اس قوم کے مستقبل سے۔ ہر صبح وہ ان پودوں کو پانی دیتا، ہر شام انہیں دیکھ کر دل ہی دل میں سکون محسوس کرتا۔ یہ صرف پودے نہیں تھے، یہ اس کی امیدیں تھیں جو زمین میں جڑ پکڑ رہی تھیں۔

مگر قسمت یا شاید کچھ بے حس ہاتھوں نے اس خواب کو چکنا چور کر دیا۔ کسی نامعلوم اور غیر ذمہ دار شخص نے، جسے نہ ماحول کی فکر تھی نہ کسی کی محنت کا احساس، رات کی تاریکی میں یا دن کی روشنی میں — یہ ابھی تک واضح نہیں — ان سو سے زائد پودوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا۔ یہ عمل صرف پودوں کی تباہی نہیں، یہ ایک انسان کے جذبے، وقت اور امید کا قتل تھا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ حرکت جان بوجھ کر کی گئی یا کسی غفلت کا نتیجہ تھی — اور جب تک تحقیقات مکمل نہ ہوں، کسی مخصوص فرد یا گروہ پر الزام لگانا مناسب نہیں۔

شجر دوست ٹیم سہارا نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور غلام رسول پاکستانی صاحب سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ ان کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس نیک انسان کی محنت کو قبول فرمائے اور اسے دوبارہ ہمت دے کہ وہ پہلے سے بھی بڑھ کر شجرکاری کرے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ چند بدنیت افراد کبھی بھی اچھے لوگوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ جو لوگ زمین میں سبزہ بوتے ہیں، وہ دراصل قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

یہاں سوال صرف ایک شخص کے نقصان کا نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری کا ہے۔ متعلقہ اداروں اور مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ عوامی مقامات پر لگائے گئے پودوں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کیمرے، نگرانی کا نظام اور واضح قوانین بنائیں۔ جو لوگ ثابت شدہ طور پر ایسی حرکتوں میں ملوث پائے جائیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے، تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص ماحول دشمنی کی جرأت نہ کرے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ کارروائی صرف ثبوت اور تحقیق کی بنیاد پر ہو، نہ کہ الزام تراشی یا افواہوں پر۔

یہ واقعہ ہم سب کے لیے ایک سبق ہے۔ اگر ہم نے کسی کو درخت کاٹتے، اکھاڑتے یا نقصان پہنچاتے دیکھا اور خاموش رہے، تو ہم بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ درخت لگانے والے ہمارے محسن ہیں، اور محسنوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے، نہ کہ ان کی حوصلہ شکنی۔ آئیے عہد کریں کہ ہم خاموش تماشائی نہیں بنیں گے، بلکہ ماحول کے محافظ بنیں گے — کیونکہ ایک درخت کی حفاظت دراصل ایک نسل کی حفاظت ہے۔

- July 2026

No comments:

Post a Comment