Tuesday, 25 August 2015

"HARAAM" ZIONIST DEMOCRACY





"HARAAM" ZIONIST DEMOCRACY

I did not take part in elections 2013 as this electoral political system will never yield positive results in Pakistan. WE NEED TO WAKE UP BEFORE WE SUCCUMB ANY MORE TO THIS "HARAAM" ZIONIST DEMOCRACY - SHARIAH UNDER MODEL OF KHILAFAH IS THE WAY FORWARD FOR MUSLIM WORLD, NOT JUST PAKISTAN.

SET YOUR SOUL FREE !!!

It's the time to tell it like it is - But many people cannot digest the hard-core truth because Satan has more followers on this Earth than God (ALLAH) Himself...!!! That is why the non-believers (especially the Children of Israel) even killed many of the Prophets (peace be upon them all), who came after Prophet Yusuf or Joesph (pbuh).

Admit the fact about "Haraam" Zionist Democracy and set your soul free !!

- S Roman Ahsan.

Saturday, 15 August 2015

Pakistan = Madinah-e-Saani


PAKISTAN = MADINAH-E-SAANI

WHY IS PAKISTAN CALLED MADINAH-E-SAANI?

Pakistan is called “Madina-e-Saani” since ages by Auliya ALLAH. The explanation given for this is that in the whole of the world now, Mushrikeen (deniers of Oneness of ALLAH) who worship multiple gods in the form of sculptures like in Makkah 1400 years ago, are present only in the state of India as a majority-nation. Muslims migrated to Madinah, fortified themselves, defended themselves against three wars waged by the Kuffaar from Makkah and finally conquered Makkah with the reign of Islam over the whole region.

Similarly, Muslims migrated from India to Pakistan in 1947, have faced three wars with neighbouring India (1965, 1971 & Kargil) and finally a fourth war will lead to supremacy of Muslims over the whole region (which is according to prophecy of our Prophet pbuh). Makkah was conquered without war but these are End times with “Ghazwa-e-Hind” to take place in this region. 

- S Roman Ahsan.

Jang Ka Mahoorat




qa1
qa2
qa3

Wednesday, 12 August 2015

Islam ka phool





مدینہ کا بازار تھا ، گرمی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ نڈھال ہورہے تھے ۔ ایک تاجر اپنے ساتھ ایک غلام کو لیے پریشان کھڑا تھا ۔ غلام جو ابھی بچہ ہی تھا وہ بھی دھوپ میں کھڑ ا پسینہ پسینہ ہورہا تھا ۔ تاجر کا سارا مال اچھے داموں بک گیا تھا بس یہ غلام ہی باقی تھا جسے خریدنے میں کوئی بھی دلچسپی نہیں دکھا رہا تھا۔ تاجر سوچ رہا تھا کہ اس غلام کو خرید کر شاید اس نے گھاٹے کا سودا کیا ہے۔ اس نے تو سوچا تھا کہ اچھا منافع ملے گا لیکن یہاں تو اصل لاگت ملنا بھی دشوار ہورہا تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ اب اگر یہ غلام پوری قیمت پر بھی بکا تو وہ اسے فورا" بیچ 
دے گا۔

مدینہ کی ایک لڑکی کی اس غلام پر نظر پڑی تو اس نے تاجر سے
 پوچھا کہ یہ غلام کتنے کا بیچو گے۔ تاجر نے کہا کہ میں نے اتنے میں لیا ہے اور اتنے کا ہی دے دوں گا۔ اس لڑکی نے بچے پر ترس کھاتے ہوئے اسے خرید لی۔ تاجر نے بھی خدا کا شکر ادا کیا اور واپسی کے راہ لی.

مکہ سے ابو حذیفہ مدینہ آئے تو انہیں بھی اس لڑکی کا قصہ معلوم ہوا۔ لڑکی کی رحم دلی سے متاثر ہوکر انہوں نے اسکے لیے نکاح کا پیغام بھیجا جو قبول کرلیا گیا۔ یوں واپسی پر وہ لڑکی جس کا نام ثبیتہ بنت یعار تھا انکی بیوی بن کر انکے ہمراہ تھی اور وہ غلام بھی مالکن کے ساتھ مکہ پہنچ گیا۔


ابو حذیفہ مکہ آکر اپنے پرانے دوست عثمان ابن عفان سے ملے تو انہیں کچھ بدلا ہوا پایا اور انکے رویے میں سرد مہری محسوس کی۔ انہوں نے اپنے دوست سے استفسار کیا کہ عثمان یہ سرد مہری کیوں!!۔ تو عثمان بن عفان نے جواب دیا کہ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور تم ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تو اب ہماری دوستی کیسے چل سکتی ہے۔ ابو حذیفہ نے کہا تو پھر مجھے بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو اور اس اسلام میں داخل کردو جسے تم قبول کرچکے ہو۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور وہ کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ گھر آکر انہوں نے اپنی بیوی اور غلام کو اپنے مسلمان ہونے کا بتایا تو ان دونوں نے بھی کلمہ پڑھ لیا۔

حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس غلام سے کہا کہ چونکہ تم بھی مسلمان ہوگئے ہو اس لیے میں اب تمہیں غلام نہیں رکھ سکتا لہذا میری طرف سے اب تم آزاد ہو۔ غلام نے کہا آقا میرا اب اس دنیا میں آپ دونوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔ آپ نے مجھے آزاد کردیا تو میں کہاں جاؤں گا۔ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس غلام کو اپنا بیٹا بنا لیا اور اپنے پاس ہی رکھ لیا۔ غلام نے قران پاک سیکھنا شروع کردیا اور کچھ ہی دنوں میں بہت سا قران یاد کرلیا۔ اور وہ جب قران پڑھتے تو بہت خوبصورت لہجے میں پڑھتے۔

ہجرت کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جن صحابہ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ اور انکا یہ لے پالک بیٹا بھی تھا۔

مدینہ پہنچ کر جب نماز کے لیے امام مقرر کرنے کا وقت آیا تو اس غلام کی خوبصورت تلاوت اور سب سے زیادہ قران حفظ ہونے کی وجہ سے انہیں امام چن لیا گیا۔ اور انکی امامت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی بھی نماز ادا کرتے تھے ۔
مدینہ کے یہودیوں نے جب انہیں امامت کرواتے دیکھا تو حیران ہوگئے کہ یہ وہی غلام ہے جسے کوئی خریدنے کے لیے تیار نہ تھا۔ آج دیکھو کتنی عزت ملی کہ مسلمانوں کا امام بنا ہوا ہے

اللہ پاک نے انہیں خوش گلو اسقدر بنایا تھا کہ جب آیاتِ قرآنی تلاوت فرماتے تو لوگوں پر ایک محویت طاری ہوجاتی اور راہ گیر ٹھٹک کر سننے لگتے۔ ایک دفعہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے میں دیر ہوئی۔ آپ ﷺ نے توقف کیوجہ پوچھی تو بولیں کہ ایک قاری تلاوت کررہا تھا، اسکے سننے میں دیر ہوگئی اور خوش الحانی کی اس قدر تعریف کی کہ آنحضرت ﷺ خود چادر سنبھالے ہوئے باہر تشریف لے آئے۔ دیکھا تو وہ بیٹھے تلاوت کررہے ہیں۔ آپ ﷺ نے خوش ہوکر فرمایا : اللہ پاک کا شُکر ہے کہ اُس نے تمہارے جیسے شخص کو میری امت میں بنایا ۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ خوش قسمت صحابی کون تھے؟۔ انکا نام حضرت سالم رضی اللہ عنہ تھا۔ جو سالم مولی ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے نام سے مشہور تھے۔ انہوں نے جنگ موتہ میں جام شہادت نوش کیا۔

اللہ کی کروڑ ہا رحمتیں ہوں ان پر ۔


📒السیرۃ النبویۃ(ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)

Page on Wasif Ali Wasif (RA)





PAGE ON WASIF ALI WASIF (RA) - 

Tuesday, 11 August 2015

Sunday, 9 August 2015

Counting Blessings



COUNTING BLESSINGS

O Lord, ALLAH Almighty - I am but a weak man. Do not burden me beyond that which I can carry. I have suffered a lot but you blessed me with a vision to proceed in this life. You showed me the righteous way and filled my heart with love. You infused in me a spirit which makes me care for my fellow-beings. My parents are still with me as a blessing also Al-hamdulillah and you guided me to look after them and to not press my demands neglecting their needs. I want to be your servant O Lord, accept me as one and make me a righteous person. Aameen !!

- S Roman Ahsan.