Saturday, 29 September 2018

LABBAIK GHAZWA-E-HIND - 30th Sep, 2018

بِسمِ اللہِ الرَحمٰنِ الرَحِیم

LABBAIK GHAZWA-E-HIND



Friday, 28 September 2018

انڈیا اور پاکستان جنگ - اور ہماری تیاری



انڈیا اور پاکستان جنگ - اور ہماری تیاری

کیا انڈیا اور پاکستان کی جنگ شروع ہونے والی ہے خدانخواستہ؟ مختصر بات یہ ہے کہ غزوہِ ہند میں شامل ہونے کی سعادت کی خواہش ہر مسلمان کو کرنی چاہیئے - لیکن ساتھ ہی ہر وقت دنیا اور وطن میں امن و سلامتی کی دعا بھی کرنی چاہیئے - جب دشمن حملہ کرے گا تو ہمیں دفاع تو کرنا ہی ہے - جنگ دشمن ہی شروع کرے گا- ختم ہم کریں گے ان شاءاللہ - 

بھارت پہلے بھی کئی دفعہ بارڈر پر فوج جمع کر چکا ہے اور پھر پیچھے ہٹ گیا - اسلئے ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ وہ پھر اپنی فوجیں پیچھے ہٹا دیں -

مختلف زرائع سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ خدانخواستہ انڈیا اور پاکستان کے آخری معرکے میں شروع میں پاکستان کا زیادہ نقصان ہو سکتا ہے - اور پاکستان کے کچھ شہر بھی ہاتھ سے نکل سکتے ہیں - یہ بحیثیت قوم ہماری اللہ کی طرف سے سزا ہو سکتی ہے کیونکہ ہمارے اعمال ٹھیک نہیں - سزا پُوری ہونے کے بعد اللہ کی مدد آئے گی کیونکہ یہ غزوہِ ہند ہوگی جس کی بشارت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی تھی - اور اس میں فتح مسلمانوں کی ہی ہو گی - سزا پوری ہونے کے بعد پاکستانی مسلمان ایک غیور قوم بن کر ابھریں گے- اور دیگر اسلامی ممالک سے بھی مسلمان مدد کو آئیں گے-

قیامت کی بہت سی چھوٹی نشانیاں پوری ہو چکی ہیں اسلئے اب جب بھی کوئی جنگ چھڑتی ہے دونوں ملکوں کے درمیان تو وہ آخری معرکہ ہی ہو گا - اس سے پہلے جو تین جنگیں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہو چکی ہیں، وہ بھی غزوہِ ہند کا حصہ ہیں لیکن یہ آخری معرکہ ہو گا -

غزوہ اسلئے کہتے ہیں کیونکہ اس جنگ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روحانی شرکت ہو گی - یہ باتیں اللہ والوں نے کہی ہیں - نعمت اللہ شاہ ولی (رح) جو ایک بڑے ولی اللہ گزرے ہیں، انھوں نے بھی پیش گوئیاں کی تھیں جن میں سے کافی سچ ثآبت ہوئیں -

اس جنگ کی تیاری رکھنا ضروری ہے کیونکہ ویسے بھی ساری اسلامی دنیا دشمنان اسلام کے زد پر ہے- اس لحاظ سے بھی ہمیں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے - لیکن ہمارے لیئے بحیثیت پاکستانی مسلمان غزوہِ ہند کا سوچ کر ہی تیاری کرنا افضل ہے - 

- سید رُومان اِحسان

Thursday, 27 September 2018

ALERT - بھارتی فوج کی کشمیر لائن آف کنٹرول پر تیاریاں


ہائی الرٹ - بھارتی فوج کی کشمیر لائن آف کنٹرول پر تیاریاں

ہم آپ کو تازہ ترین خبر دے رہے ہیں کہ بھارتی مشرکوں نے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھاری تعداد میں فوج، گولہ بارود اور توپ خانہ جمع کرنا شروع کردیا ہے۔ تمام انٹیلی جنس رپورٹیں حتمی طور پر تصدیق کررہی ہیں کہ اگلے چند روز میں کسی بھی وقت بھارت حملہ کرسکتا ہے۔

پاک فوج کو دشمن کی ان تیاریوں کا علم ہے، اور دفاعی حکمت عملی بھی مرتب کی جارہی ہے۔ مگر قوم اور حکومت کو نہ تو علم ہے اور نہ ہی ان کی کوئی تیاری۔ اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ کشمیر میں ہونیوالی جنگ صرف کشمیر میں ہی محدود رہے گی تو یہ بھی اس کی غلط فہمی ہے۔

یہ قوم توبہ نہیں کررہی، جمہوریت کے بت کو پوجے جارہی ہے، ظلم اور ستم کا وہی بازار گرم ہے، اب لگتا ہے کہ یہ قوم اب جنگ کی بھٹی میں پگھلائی جائے گی۔

انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق دشمن جتنی بھرپور تیاری کررہا ہے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ اگلے ایک ہفتے کے اندر ہی کشمیر میں کوئی بھاری کاررورائی کی جائے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ فضائی حملے ملک کے دیگر حصوں میں بھی کیے جائیں۔

جنگ ہے، تو پھر جنگ ہے!!!!

ہندو مشرکوں سے ہونیوالی ہر جھڑپ غزوہ ہند کا حصہ ہے۔
اس میں شامل ہونیوالی فوج جنتی اور رسول اللہﷺ کی محبوب فوج ہے۔
اگلے چند دنوں میں بھارت سے ہونیوالی جنگ محدود ہوتی ہے یا فیصلہ کن، یہ وقت ہی بتائے گا۔

لبیک غزوہ ہند

غزوہ ہند کیلئے خصوصی تیاری و مشق کی ضرورت و اہمیت


غزوہ ہند کیلئے خصوصی تیاری و مشق کی ضرورت و اہمیت

غزوہ ہند کے بادل نظر آنا شروع ہوچکے ہیں- لیکن پھر بھی اس کے صحیح وقت کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے

کئی صدیوں سے لوگ ترس ترس کر اس سعادت کو پانے کیلئے دعائیں کرتے رہے جن کے ناموں میں حضرت عبداللہ شاہ اصحابی کا نام بھی قابل زکر ہے جنہوں نے غزوہ ہند میں شرکت کیلئے رخت سفر باندھا اور کراچی میں ان کا مزار موجود ہے ۔

غزوہ ہند روحانی و جسمانی دونوں طور پر لڑی جائیگی ۔ نیکی و بدی کی قوتیں آپس میں دست و گریباں ہونگی ۔

ایسا نا ہو کہ اچانک جنگ کے بادل برسنا شروع ہوجائیں اور آپ میں سے بہت سے لوگ کہیں کہ ہماری تو کوئی تیاری ہی نہیں نا ہم غلیل چلاسکتے ہیں نا میلوں پیدل بھاگ سکتے ہیں عرصہ ہوگیا فیس بک میسنجرگروپس میں وقت گزاری کرتے کرتے جسمانی ورزشیں ترک کردیں ۔ لائسنس شدہ پستول بندوق بھی کب سے گھر میں پڑا زنک لگتا رہا اس کی صفائی تک نا کی مشق کرنا تو دور کی بات ۔

اب جتنا وقت بچا ہے فضول چیٹ اور فن تفریحات ٹی وی مویز کو ایک سائیڈ رکھیں اور آنے والی سعادت کو پانے کیلئے تیاری کریں اور سستی چھوڑ دیں۔

گھروں میں تہخانے بنوائیں زیرزمین کمرے اس میں خشک کھانے اجناس دوائیاں محفوظ کریں ۔

نقد میں کوشش کریں کہ سونا ضرور ہو آپ کے پاس 

ایمرجنسی میں کام آئیگا 

سونا چاندی چاہے تھوڑا سا کیوں نا ہو خرید کررکھیں اپنے پاس۔

طبی امداد۔ وغیرہ علاج و معالجہ کی بنیادی تربیت ہونی ضروری ہے ۔

انڈیا میں شیو سینا بجرنگ دال کے انتہا پسند جماعتیں تو لڑکوں کو خوب ٹریینگ دے رہی ہے آپ کا سامتہ ایک جاہل اور وحشی قوم سے ہوگا خود جائزہ لیں اپنا آپ کس حد تک ان سے مقابلے کیلئے تیار ہیں ؟

اتھرا سپاہی

Tuesday, 25 September 2018

معاشرے کا وہ ناسور۔۔۔ گول گپے والا


معاشرے کا وہ ناسور کے جس کے بارے میں آگاہی بہت ضروری ہے...... 😔😔😔


گول گپے والا آیا ۔۔۔ گول گپے والا...!!!

چھ دن سے میرے کزن کی بیٹی ہسپتال میں داخل تھی۔ اسکی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ پتہ چلا کہ چیختی ہے چلاتی ہے اور لوگوں کو کاٹتی ہے۔ مجھے پتہ چلا تو میں اسے دیکھنے ہسپتال گیا۔ بچی کی ٹانگیں اور ہاتھ باندھے ہوئے تھے اور وہ تڑپ رہی تھی۔ بارہ سال کی بچی ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے ملا تو بولے ہیسٹیریا ہے۔ باپ سے پوچھا تو کہنے لگے اس کو سایہ ہو گیا ہے۔ والدہ نے کہا اسکی پھوپھو نے جادو کر دیا ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ میں نے بچی کے پاس جا کر اسے پیار کیا اور پانی پلایا۔ وہ بیقرار تھی۔ کہتی ہے مجھے گول گپے کھانے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے منع کیا ہے کہ اس کو کوئی چیز بازار سے نہیں دینی ہے۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔ میں نے پوچھا کہ بچی کی یہ حالت کب سے ہے۔ والدہ نے بتایا کہ چھٹیوں کے آخری بیس ایام اپنے دادکوں کے گھر گئی تھی۔ وہاں سے جب واپس آئی ہے تو طبیعت ناساز ہے۔ چڑچڑی ہوگئی ہے۔ باہر نکل نکل کر بھاگتی ہے۔ بس کہتی ہے کہ گول گپے کھانے ہیں وہ بھی لا کر دئیے پر پسند نہیں آتے پھینک دیتی ہے۔ چیختی ہے چلاتی ہے۔ جوان ہے ایسی حرکتیں دیکھ کر کون اس سے شادی کرے گا۔ میں نے لڑکی سے تنہائی میں بات کرنے کی اجازت چاہی جو مل گئی۔

میں نے بچی کے ہاتھ پاؤں کھولے اور ٹیرس پر لے گیا۔ اسے پانی پلایا اور پوچھا کہ مجھے اپنا دوست سمجھو جو کچھ ہم میں بات ہوگی وہ راز ہی رہے گا۔ میں نے قسم کھائی۔ لڑکی کو کچھ حوصلہ ہوا تو کہنے لگی آپ اپنی ماں کی قسم کھائیں کہ کسی کو نہیں بتائیں گے۔ میں نے یہ قسم بھی اٹھا لی۔ لڑکی بولی کہ مجھے اپنے پھوپھو زاد کزن سے پیار ہو گیا ہے اور وہ بھی مجھے بہت چاہتا ہے مگر میری پھوپھو نہیں مانیں گی۔ میرا اپنے کزن سے کچھ جسمانی رشتہ بھی ہو گیا ہے اور میں اس کو چھوڑ نہیں سکتی۔ ہم دونوں کئی کئی گھنٹے ساتھ رہے ۔ ان کے محلے میں ایک گول گپے والا ہے جو مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔ ہم دونوں وہ کھانے کے لئے جاتے تھے اور کھا کر اسی کے کیبن میں بیٹھ کر پیار محبت کی باتیں کرتے اور بھی بہت کچھ۔ ہمیں جیسے نشہ سا ہو گیا تھا ایک دوسرے کا۔ میں جب سے واپس لوٹی ہوں دل بہت بیقرار رہتا ہے اور جسم میں جیسے کچھ جل سا رہا ہے۔ میں نے اس سے اس کی پھوپھو کا نمبر لیا اور اس کو یقین دلایا کہ میں جو کچھ بھی کر سکا کروں گا۔

اگلے روز میں اس کی پھوپھو کے گھر تھا۔ رشتے دار تھے میری بہت عزت کی۔ میں نے اس کے بیٹے سے بازار تک ساتھ چلنے کو کہا اور ہم پیدل ہی شام کو گھر سے نکلے۔ باتوں باتوں میں میں نے لڑکی کے حوالے سے گول گپے کی تعریف کی اور یوں ہم اس دکان کے کیبن میں پہنچ گئے۔ گول گپے منگوائے گئے اور کھائے بھی ۔ بہت مزے دار تھے۔ الگ سا ذائقہ تھا۔ خیر میں نے کچھ پیک کروا لئیے اور ساتھ لے آیا۔ رات کو واپس شہر آیا اور وہ گول گپے ایک دوست کی لیب والے کو دیئے کہ اس کو چیک کردے۔ منشیات والے ادارے کو بھی ایک سیمپل دیا۔ اگلے روز کی رپورٹ میں پتہ چلا کہ مصالحہ جات میں ہیروئن ملائی گئی ہے۔ رپورٹ دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔ ایک لمحے کے لیے دم بند سا ہو گیا۔ اسی لمحے محکمہ انسداد منشیات کے ارادے سے رابطہ کیا اور اس گول گپے والے کی دکان پر ریڈ کیا۔ وہاں سے شراب، ہیروئن اور چرس برآمد ہوئی۔ یہ باقاعدہ ایک منشیات کا اڈہ تھا اور گول گپے والا اپنے گول گپوں میں گھول کر ہیروئن کھلا رہا تھا۔ نوجوان بچے بچیوں کی خلوت کے لئے کیبن بھی تھے جہاں ان کے ملازمین کی زیر نگرانی قبیحہ جنسی جرائم کا سلسلہ جاری تھا۔ جو لگ گئے وہ یہاں سے ہٹ نہیں سکتے تھے۔ اور جو کچھ کرتے تھے تو ان کی وڈیو بنتی تھی اور بلیک میلنگ ہوتی تھی۔ یہی ان بچوں کے ساتھ بھی ہوا۔ نشہ الگ لگ گیا اور گناہ الگ کر بیٹھے جو اس بچی کو پیار لگا۔ ان کو پکڑا کر بچی کی طرف لوٹا اور ڈاکٹر صاحب کو اعتماد میں لے کر بچی کو ترک منشیات کے ادارے میں داخل کروا کر علاج کروایا۔ اس کی پھوپھو سے کھل کر بات کی اور بچے کو بھی علاج کے لیے بلوایا اور اس کا بھی علاج کروانے کے بعد میں نے دونوں گھرانوں کو آمنے سامنے بٹھایا اور ان سے سارا معاملہ کہ دیا۔ کچھ قسم تو ٹوٹی مگر اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لی اور کفارہ بھی ادا کیا مگر میری کوششیں سے وہ بچے منگنی کے بندھن میں بندھ گئے۔

یہ تو تھا واقعہ ۔۔ اب آئیں اصل مسئلے پر۔۔ اور وہ یہ ہے کہ ہمارے بچوں کے ساتھ یہ ہو کیا رہا ہے۔ سکولوں کے باہر ریہڑیوں پر اور سکول کالجوں کی کینٹینوں پر محلے میں پھرتے ریہڑی اور چھابڑی والے خوانچے والے ہمارے بچوں کے ساتھ کیا کچھ کر رہے ہیں اسکا علم اکثر والدین کو ہے ہی نہیں۔ یہ لوگ اپنی چیز بیچنے کے لیے جو جو کچھ کر رہے ہیں اس کا عشر عشیر بھی ہمیں نہیں معلوم۔ ہمارے بچے اب نشوں پر لگ چکے ہیں۔ اور ہمیں معلوم ہی نہیں۔ ہم بحیثیت مجموعی اپنی اولادوں سے غافل ہیں۔

براہ کرم ان خوانچہ فروش مافیا سے ہمیں بچنا ہوگا۔ حکومت بیخبر ہے تو والدین اور اساتذہ کو جاگنا ہوگا۔ ان تک اپنے بچوں کو نہ جانے دیں۔ نشہ نہ بھی ہو تو ان کی گندگی ہی بہت ہے بچوں کی صحت تباہ کرنے کے لئے۔

یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں ان کو نشئی اور گمراہ ہونے سے بچا لیں۔ گول گپے والا تو گول گپے بیچ جائے گا مگر ہماری پوری نسل نشہ آور بن کر تباہ ہو جائے گی۔
جاگتے رہیئے ورنہ سب کچھ سو جائے گا۔۔

یا اللہ ہماری حفاظت فرما ان دشمنوں سے آمین۔

Sunday, 23 September 2018

THE WEEK THAT WAS - FB Posts - 16 - 23 Sep2018



THE WEEK THAT WAS - VITAMINS FOR YOUR MIND:



Facebook posts by S Roman Ahsan - 16th - 23rd Sep, 2018

عزیز پاکستانیوں، سب سے پہلے سچ اختیار کرو، نماز پانچ وقت، زکر (قرآن، درود شریف وغیرہ)، احسن حقوق العباد اور معاملات میں ایمانداری

علمائے حق کے مطابق تو اسرائیل، امریکہ اورانڈیا کےمظالم کے بعد امتِ مسلمہ پر جہاد فرض ہو گیا ہے- لیکن اصل میں ہمارا ایمان کمزور ہے

ٹی وی پر بے حیائی کو روکنے کیلئے نواز شریف کی حکومت نے بھی کچھ نہیں کیا - بلکہ بڑھ گئی - اس نے بیان دیا تھا “ ہمیں لبرل ہونا ہے “

ایک روحانی بزرگ نے مجھے کہا کہ ختمِ نبوت کے قانون میں ردبدل کی کوشش اور ممتاز قادری کو پھانسی، یہ نواز شریف کے سنگین گناہ ہیں

خاتون نے نوکرانی کو چھوٹی سی غلطی پرجُوتی اتار کرماری- گیٹ پرفقیرآیا تو اسے گالیاں دیں- رات فیس بُک پر لکھا “ انسانیت کی خدمت کرو“

تنگی سے نجات کیلئے روز مغرب کے بعد اور عشاء سے پہلے سورہ الواقعہ پڑھنی چاہیئے - قرآن شریف کی ویسے بھی باترجمہ تلاوت کرنی چاہیئے

پپو مسجد میں نماز کے بعد قرآن پڑھ کر گھر آیا - فیس بُک کھولا توسامنے پوسٹ آئی “ جو قرآن سے محبت کرتے ہیں اللہ ان سے محبت کرتا ہے“

عمران خان باقیوں سےکچھ بہترہےلیکن “نیا پاکستان“ صرف ایک اسٹاپ ہے - ہماری اصل منزل آگےحقیقی اسلامی روحانی ریاست کا قیام ہے

Sport of cricket is waste of time. We need to ban it in Pakistan & invest more in Gymnastics, Archery, Horse-riding & Ninjutsu

PRIME MINISTER IMRAN KHAN TWEETED:

"Disappointed at the arrogant & negative response by India to my call for resumption of the peace dialogue. However, all my life I have come across small men occupying big offices who do not have the vision to see the larger picture."

Saturday, 22 September 2018

INDIA-PAKISTAN UPDATES - 22nd Sep, 2018


بِسمِ اللہِ الرَحمٰنِ الرَحِیم




INDIA-PAKISTAN UPDATES - 22nd Sep, 2018


1- Prime Minister Imran Khan Tweeted

Disappointed at the arrogant & negative response by India to my call for resumption of the peace dialogue. However, all my life I have come across small men occupying big offices who do not have the vision to see the larger picture.

2- Indian army chief threatens Pakistan with 'painful retaliation'

LINK: https://tribune.com.pk/story/1809159/1/

3- Pakistan is prepared for war, DG ISPR hits back at India army chief


LINK: https://tribune.com.pk/story/1809193/1


اگر خدانخواستہ انڈیا اور پاکستان کی جنگ چھڑ گئی تو ہم عوام نے اس کیلئے کیا تیاری کی ہوئی ہے؟ یہ غزوہِ ہند ہو گی

Ghazwa-e-Hind - An article by Ameer Akram Awan which was published in Roznama Jurrat in late December, 2008.

غزوہِ ہند پر امیر اکرم اعوان کا ایک لیکچر جو ٢٠٠٨ میں روزنامہ جرات میں چھپا تھا

LINK OF ARTICLE: http://together-we-rise.blogspot.com/2013/08/signs-of-ghazwa-e-hind.html