Wednesday, 31 January 2018

Old man and the eggs


OLD MAN AND THE EGGS

She asked him, 'How much are you selling the eggs for?'
The old seller replied, 'Rs.5/- an egg, Madam.'
She said to him, 'I will take 6 eggs for Rs.25/- or I will leave.'
The old seller replied, 'Come take them at the price you want. May be, this is a good beginning because I have not been able to sell even a single egg today.'

She took the eggs and walked away feeling she had won. She got into her fancy car and went to a posh restaurant with her friend. There, she and her friend, ordered whatever they liked. They ate a little and left a lot of what they ordered. Then she went to pay the bill. The bill cost her Rs.1,400/-. She gave Rs. 1,500/- and asked the owner of the restaurant to keep the change.

This incident might have seemed quite normal to the owner but, very painful to the poor egg seller.

The point is,
Why do we always show we have the power when we buy from the needy ones? And why do we get generous to those who do not even need our generosity?

I once read somewhere:

'My father used to buy simple goods from poor people at high prices, even though he did not need them. Sometimes he even used to pay extra for them. I got concerned by this act and asked him why does he do so? Then my father replied, "It is a charity wrapped with dignity, my child”

I know most of you won't share this message but if you feel that people need to see this, then do spread this message.

IMPORTANT - افغانستان اور پاکستان میں کون دہشتگردی کررہا ہے؟


افغانستان اور پاکستان میں کون دہشتگردی کررہا ہے؟

پاکستان اور افغانستان میں نائن الیون کے بعد امریکہ سب سے بڑا دہشتگرد ہے- امریکہ نے پہلے اپنے میڈیا کے ذریعے افغان طالبان کے خلاف پروپیگینڈہ کیا اور پھر افغانستان پر حملہ کر دیا- افغان طالبان تو امریکہ کے خلاف جہاد کرتے رہے ہیں اور بےگناہ لوگوں کو قتل نہیں کرتے- 

لیکن اب داعش (آئی ایس آئی ایس) بھی افغانستان میں آگیا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کا بنایا ہوا خارجی دہشتگرد گروہ ہے اور خلافت کا نام لے کے کر بہت سے نوجوان مسلمانوں کو اکٹھا کررہا ہے- اصل میں اس طرح امریکہ اور اسرائیل مسلمانوں کے “خلافت“ کے نظریے کو دنیا بھر میں بدنام کرنا چاہتے ہیں- افغانستان میں اب کچھ عرصے سے افغان طالبان اور داعش کے درمیان لڑائیاں بھی ہوتی رہی ہیں اور یہ داعش ہی ہے جو افغانستان میں دہشتگردی کر رہا ہے، الزام پاستان اور افغان طالبان پر آجاتا ہے-

اسی طرح پاکستان میں “تحریکِ طالبان پاکستان“ (ٹی ٹی پی) اصل میں امریکہ اور بھارت کا بنایا ہوا دہشتگرد خارجی گروہ ہے- تحریک طالبان بھٰی اصل میں “طالبان“ کا نام لے کر افغان طالبان کو بدنام کررہے ہیں- افغان طالبان نے بہت دفعہ تحریک طالبان پاکستان سے بالکل لاتعلقی کا اعلان کیا ہے-

اس سب کھیل میں ہمارے کچھ خدافراموش صحافی جو اسلام سے بالکل بیزار ہیں اور جو امریکہ کے چندہ پر پل رہے ہیں، وہ پاکستانی قوم کو بالکل غلط معلومات فراہم کرتے رہے ہیں- خدانخواستہ جنگ کی صورت میں انھوں نے امریکہ جاکر بیٹھ جانا ہے اور انھیں پاکستان و مسلم دُنیا کی کوئی فکر نہیں-

Monday, 29 January 2018

امریکی ڈرونز اور پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔


امریکی ڈرونز اور پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔

ذرا یہ خبریں چیک کریں۔

"انڈیا کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑ سکتا ہے" امریکی ایجنسیوں کی رپورٹ 
25 مئی 2017ء

" پاکستان نے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم نہ کیں تو امریکہ کچھ بھی کر گزرے گا" 
امریکی چیف 
4 دسمبر 2017

"پاکستان سے نمٹنے کے لیے اپنی سوچ تبدیل کر رہے ہیں۔ ہم حملہ کرینگے اور بتائے بغیر کرینگے " ڈونلڈ ٹرمپ 
22 اگست 2017

"اسرائیل کا پاکستان کے خلاف بھارت کی ہرممکن مدد کرنے کا اعلان" ڈپٹی سیکٹری اسرائیلی وزارت خارجہ 
4 جولائی 2017

" ایران پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کر سکتا ہے" ایرانی جنرل محمد باقری 
9 مئی 2017

"مارچ 2018ء میں پاکستان کے چار ٹکڑے کر دیں گے" بی جے پی رہنما 
2 اکتوبر 2017

"پاکستان کی جوہری صلاحیت ایک فریب ہے، ضرورت پڑی تو جوہری صلاحیت کی پرواہ کیے بغیر پاکستان پر حملہ کرینگے" انڈین آرمی چیف 
12جنوری 2018ء

افغانستان سے ملنے والی دھمکیاں ان کے علاوہ ہیں۔ جبکہ افغانستان میں کم از کم دس ہزار دہشت گرد دوبارہ فاٹا میں گھسنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔

پاکستان معاشی طور پر کمزور ترین حالت میں ہے۔ اندرونی انتشار عروج پر ہے۔ کسی ایک معاملے پر بھی قوم یکسو نہیں۔

پاک فوج کے حالیہ بیانات سے واضح ہے کہ وہ کسی بڑے جنگ کے خطرات محسوس کر رہی ہے۔ ایک ایسی جنگ جسکا میدان پاکستان بن سکتا ہے۔

پاکستان انڈیا سے نمٹ سکتا ہے۔ 
اسرائیل کی پاکستان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔ 
شائد پاکستان امریکہ سے بھی لڑ لے۔

لیکن دنیا کی ان تمام بڑی طاقتوں سے بیک وقت جنگ جس میں ہمارے اپنے مسلمان بھی انکا ساتھ دیں ایک یقینی تباہی لائیگی۔

اگر ایٹمی ہتھیار استعمال ہوئے تو اربوں انسانوں کی موت اگر نہ ہوئے تو پاکستان میں کروڑوں اموات۔

پاکستان ہرگز ہرگز نہیں چاہے گا کہ جنگ ہو لیکن اگر ناگزیر ہوجائے تو تمام دشمنوں سے بیک وقت نہ ہو۔

71ء کی جنگ سے پہلے ایک انڈین طیارہ ھائی جیک کر کے پاکستان لایا گیا جسے مبینہ طور پر ذولفقار علی بھٹو نے آگ لگوا دی۔ انڈیا کو جواز مل گیا اور اس نے پاکستان کی فضائی حدود بند کروا دیں۔ جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان ہم سے کٹ کر رہ گیا۔

ائیرچیف کی وارننگ کے باؤجود امریکہ نے دو دن پہلے ڈرون حملہ کیا۔ 
اس کے علاوہ امریکی ڈرونز پاکستان میں داخل ہوئے بغیر افغانستان کی حدود سے ہی راکٹ مار کر نکل جاتے ہیں۔

پاکستان کے مقتدر حلقے نہایت ٹھنڈے دماغ سے اس تمام منظر نامے کو مد نظر رکھ کر ہی فیصلے کر رہے ہیں۔ وہ ہماری نسبت زیادہ بہتر انداز میں کیلکولیٹ کر سکتے ہیں دشمن کیا چاہتے ہیں اور ہم نے کیسے نمٹنا ہے۔ خاص طور پر ڈرون حملوں سے۔

پاکستان میں پائے جانے والے وہ سلطان راہی جو نسبتاً زیادہ بڑے ڈیل ڈول والے شخص کی گالی سن کر محض کٹ لگنے کے ڈر سے خاموش ہوجاتے ہیں یہاں بھی اپنے جذبات قابو میں رکھیں۔ یہاں کروڑوں انسانوں کی زندگی کا معاملہ ہے۔

روز اپنی جانیں دینے والی اور دنیا کے بقول دنیا کی بڑی سپر پاورز کے ساتھ پراکسی جنگیں لڑنے والی پاک فوج کی بہادری کسی شک و شبے سے بالاتر ہے۔

لیکن جنگ حکمت عملی بھی وہ ہم سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ اس لیے ان کو ہینڈل کرنے دیں۔۔۔

Jan 28, 2018

افغانستان اور پاکستان میں کون دہشت گردی کررہا ہے؟



ہم زندگی کیسی گذاریں؟ وقت کا کیا تقاضہ ہے؟


ہم زندگی کیسی گذاریں؟ وقت کا کیا تقاضہ ہے؟

اصل زندگی مرنے کے بعد شروع ہو گی، یہ دنیا کی زندگی قیامت کے دن ایک چھوٹے سے خواب کی مانند محسوس ہو گی، اسلئے اس سے زیادہ دل نہیں لگانا چاہیئے ۔

جہاد اور مجاہدین کا وقت قریب آرہا ہے ان شاءاللہ ۔ بیچارے لبرل ابھی بھی عیاشیوں میں پڑے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ دنیا ہی سب کچھ ہے اور ہم نے ہمیشہ یہاں رہنا ہے۔

جو لوگ دین پر عمل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان کیلئے اقبال کا یہ شعر بھی ضروری ہے:

دِل پاک نہ ہو تو پاک ہوسکتا نہیں انسان
ابلیس کو بھی آتے تھے ورنہ وضو کے فرائض بہت

دنیا میں رہتے ہوئے جائز طریقے سے کمانا اور تفریح ٹھیک ہے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو سامنے رکھنا چاہئے (صرف کوشش درکار ہے) اور آخر ت کو بھولنا نہیں ۔

واصف علی واصف (رح) نے بہت خوبصورت بات کی ہے - “آج کا اِنسان صرف دولت کو خوش نصیبی سمجھتا ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی بدنصیبی ہے-“

اور سیدھی سی بات ہے کہ جب دنیا بھر میں ہر طرف مسلمانوں پر ظلم و ستم ہو رہا ہو تو خدانخوستہ ہماری باری بھی آسکتی ہے- پھر ہم کیسے عیاشیوں میں وقت برباد کر سکتے ہیں؟ یہ وقت تو توبہ اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ہے- دنیا کے حالات کس طرف جارہے ہیں، ان پر غور و فکر کرنا چاہیے- ہمارے لئے یہ اشارے ہیں جن کر رد کردینے میں ہمارے لیے نقصان ہے-

جو شخص مر گیا، اس کی قیامت وہیں شروع ہو گئی- اگر اس کی موت اس حالت میں آئی کہ وہ اللہ کی مان کر چل رہا تھا یا کوشش کررہا تھا تو وہ فلاح پا گیا- اس زندگی میں ہم چھوٹی سی تکلیف بھی برداشت نہیں کر پاتے، پھر آخرت کا عذاب تو قرآن میں واضح ہے نافرمانوں کیلئے- اللہ ہمیں اس کے پسندیدہ بندوں میں شامل کرے - آمین

دینی فرائض جن کا تعلق عبادات سے ہے، اس کے علاوہ بھی ہمیں اپنے روزمرہ کے معمولات کو دین کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیئے- مردوں کو چاہیئے کہ اپنے علاقے کی مسجد میں جمعے کے علاوہ بھی ضرور جائیں اور دن کی نمازیں وہاں پڑھیں- ہر علاقے میں اب تو ایک سے زیادہ مسجدیں ہوتی ہیں، اسلئے ان میں سے ایک کو پسند کرلیں - مولوی صاحب جیسے بھی ہوں، ہم نے تو اللہ سے دل لگانا ہے- اگر آپ کو کوئی مولوی صاحب بالکل پسند نہیں تو کسی دوسری مسجد کو پکڑ لیں بےشک - آفس میں ہوتے ہیں تو وہاں بھی باجماعت نماز کر سکتے ہیں اور شام کو گھر آ کر کم از کم عشاء کی نماز تو اپنے علاقے کی مسجد میں پڑھ سکتے ہیں۔

ریسٹورنٹ، کلب اور سپر سٹورز میں جانا کم ہو جائے تو پھر مسجد میں جانا آسان ہو سکتا ہے- ریسٹورنٹ، کلب اور سپرسٹورز میں ضرورت کے تحت جائیں لیکن ان میں زیادہ محو نہیں ہونا چاہیئے-

زندگی جنت کبھی نہیں بن سکتی، اسلئے ہمیں اپنے ارد گرد زیادہ سہولیاتِ زندگی اکٹھی نہیں کرنی چاہیئے ورنہ اللہ کی طرف رُحجان میسر نہیں ہو سکتا- ہر چیز ضرورت کی حد تک ٹھیک ہوتی ہے اور کسی کے پاس کیا ہے، ہمیں اس سے غرض نہیں ہونی چاہیئے ورنہ انسان ساری زندگی خواہشات کے پیچھے بھاگتا رہے-

ہالی وڈ اور بالی وڈ کی فلمیں ہم دیکھ کر انھی کی طرح بننے کی کوشش کرتے ہیں- اس کو بہت کم کرنا ہوگا- اگر ہمارے زہن میں فلموں کے ہیروز اور ہیرونیں سمائی ہوئی ہوں تو پھر اسلام کی طرف حقیقی معنوں میں رُحجان نہیں ہو سکتا- یہ بہت کام کی بات ہے، ہمیں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیئے- آجکل کی فلمیں تو خاص طور پر نہایت نامعقول ہیں اور افسوس یہ ہے کہ پاکستان میڈیا بھی بہت خراب کررہا معاشرے کو- اس جادو سے باہر نکلنا ہو گا- ٹی وی صرف ضرورت کے تحت دیکھیں-

اسی طرح خواتین بھی اپنے حساب سے دینی فرائض اور دینی محفلیں کر سکتی ہیں جن میں نمودونمائش نہ ہو اور اللہ کی خوشنودی درکار ہو-

اپنے قریبی لوگوں کا خیال رکھنا اور پھر غریبوں، ناداروں کی مدد کرنا بھی اللہ کے ہاں مقبول فعل ہے- ان سب میں توازن رکھنا چاہیئے-

یہ دور فتنوں کا دور ہے اور افراتفری کا دور ہے- آخری زمانہ شروع ہو چکا ہے بہت سے علماء اور اللہ والوں کے مطابق- امام مہدی (ع) کے ظہور، دجال اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دوبارہ نزول پر ضرور کچھ نہ کچھ علم حاصل کریں-

اللہ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلائے - آمین

تحریر: سید رُومان اِحسان

Saturday, 27 January 2018

“ تیسری عالمی جنگ کے نقارے“ - WWIII

“ تیسری عالمی جنگ کے نقارے“

اوریا مقبول جان کا آرٹیکل ضرور پڑھیں“ تیسری عالمی جنگ کے نقارے“- وقت کا تعین اللہ تعالٰی کی زات کرتی ہے پرغزوہِ ہند جلد ہو سکتی ہے

LINK: https://www.urdusafha.pk/3rd-world-war-k-naqaaray/

Friday, 26 January 2018

VIDEO - شیخ ناظم کا داتا دربار کا دورہ


VIDEO - شیخ ناظم کا داتا دربار کا دورہ

Late Sheikh Nazim (ra) of Syria visiting Data Darbar

شام کے سلسلہ نقشبندی کے بڑے عالم شیخ ناظم (رح) مرحوم کی ایک وڈیو جب وہ داتا دربار آئے تھے اور وہاں کچھ وعظ دیا - شیخ ناظم (رح) کا امام مہدی علیہ السلام کے ظہور پر کافی یقین تھا اور اس پر ان کے بہت سے بیان اور آرٹیکل آپ کو مل جائیں گے انٹرنیٹ پر - اس وڈیو میں جو وعظ ہے وہ انگلش میں ہے اور ساتھ میں ایک پاکستانی اس کا ترجمہ بھی کر رہا ہے- یہ وڈیو ضرور دیکھیں وقت نکال کر تاکہ آپ کو کچھ چیزوں کا علم ہو کیونکہ ہمارا سیکھنا ختم نہیں ہو سکتا - جو چیز آپ سمجھیں کہ صحیح نہیں ہے وہ بیشک چھوڑ دیں

اصل میں کچھ مخالفین بےجا بات کرتے رہتے ہیں کہ مزار پر نہیں جانا چاہیئے، اسلئے آپ یہ ضرور دیکھیں- خواتین پر کیمرہ بار بار فوکس نہیں کرنا چاہیئے لیکن ان فلم بنانے والوں کو شائد سمجھ نہیں آتی

وڈیو - - -