Tuesday, 15 October 2019

عالمی جغرافیائی سیاست کی بساط - IMPORTANT - Oct 16, 2019


عالمی جغرافیائی سیاست کی بساط

تحریر: سید زید زمان حامد
ترجمہ: ابو حذیفہ

مشرق وسطیٰ میں اس وقت عقل کو چکرا دینے والا فساد و انتشار برپا ہے۔ یہ دور دجل و فریب، جھوٹی اطلاعات کی نشرواشاعت اور نفسیاتی جنگ کا ہے۔ جہاں سحر سامری کے جدید حربے انسان کے ذہن کو غلام بنانے کا کام دے رہے ہیں۔جس میں میڈیا جدید ترین اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا سب سے مہلک ہتھیار ہے۔ سی این این، بی بی سی، فاکس وغیرہ محض نیوز چینلز ہی نہیں ہیں، یہ ابلاغی جنگ میں ان جدید نفسیاتی ہتھیاروں سے لیس پلیٹ فارمز ہیں کہ جو ایٹمی ہتھیاروں کی طرح وسیع پیمانے پر تباہی پھیلارہے ہیں۔اگر آپ پوری طرح چوکنا نہیں ہیں تو یہ اپنے جھوٹے بیانیوں سے آپ کو مخمسے میں مبتلا کرکے نظریاتی تذبذب اور خوف کے اندھے کنویں میں دھکیل دیں گے۔ عام آدمی کیلئے میڈیا کے جھوٹ سے بچنا ناممکن ہے۔

عالمی جغرافیائی سیاست کا تجزیہ کرکے تہہ میں پہنچیں توپتہ چلے گا کہ مشرق وسطیٰ میں فساد اور افراتفری کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ ”عظیم تر اسرائیل“ کا قیام۔ باقی جو بھی انتشار جہاں بھی ہے، اسی ”عظیم مقصد“ کا شاخسانہ ہے۔اسرائیل کے دفاع اور تحفظ کیلئے اس کے گرد و پیش میں موجود تمام تر مسلم ممالک کا خاتمہ لازم ہے۔ اوراس کے دفاع اور تحفظ کیلئے یہ بھی اتنا ہی لازم ہے کہ کسی اسلامی ملک کے پاس جوہری ہتھیار بھی نہ ہوں۔اسرائیل اور بھارت کے اتحاد کا بھی یہی مقصد ہے اور آنے والے دنوں میں اسی اتحاد کی وجہ سے جنوبی ایشیاءمیں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک خونریز جنگ بھی برپا کی جائے گی۔

اگرچہ ترکی ایک جوہری طاقت نہیں ہے، لیکن وہ ماضی کی ایک شاندار تاریخ اور تہذیب کا امین ہے، لہذا اسرائیل کیلئے ترکی کو راستے سے ہٹانا بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ پوری عرب دنیا میں خلافت عثمانیہ کے احیاءکا خوف پیدا کرکے اسے ترکی کے خلاف متحرک کررہے ہیں۔

جنوبی ایشیاءمیں آر ایس ایس کی نازی جماعت کا ابھرنا اور اس کا اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے خلاف اشتراک بھی اس سارے تناظر کا ایک منطقی نتیجہ ہے۔ کیونکہ پاکستان ہی اپنے جوہری ہتھیاروں، اسلامی نظریاتی اساس اور جنگ کی بھٹی میں تپائی گئی فوج کے ساتھ، اسرائیل کے وجود کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اسی خطرے کے سدباب کیلئے آر ایس ایس کی قیادت میں بھارت کو جلد از جلد پاکستان کے خلاف مشن سونپا جانا لازمی تھا۔

دوسری طرف امریکہ کے بڑے تزویراتی اہداف میں : اسرائیل کا دفاع، مسلم دنیا کوجوہری طاقت سے محروم کرنا، اسلام کا بحیثیت ایک سیاسی قوت سدباب کرنا، زیادہ سے زیادہ قدرتی وسائل اور ایندھن کے ذرائع پر اختیار حاصل کرنا، پانی اور تجارتی راستوں پر اجارہ داری اور چین اور روس کی جغرافیائی و اقتصادی پیش رفت کے آگے بند باندھنا شامل ہیں۔

اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ وہ ابھی تک پوری طرح محفوظ نہیں ہوا،اگرچہ وہ یہ کہتا ہے کہ اسے اپنے ہمسایہ عرب ممالک سے اب کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک پاکستان اور ترکی اپنی جوہری اور فوجی طاقت کے ساتھ اپنے پیروں پر کھڑے ہیں، اسرائیل کبھی بھی خود کو محفوظ تصور نہیں کرسکتا۔ اسی خطرے کا قلع قمع کرنے کیلئے اسرائیل، امریکہ۔عرب اتحاد کو ترکی کے خلاف، اوربھارت کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔

یعنی اگر ہم حقیقت کی دنیا میں رہتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیں تو اسرائیل کو اپنی بقاءکیلئے مزید جنگوں کی ضرورت ہے اور اب یہ جنگیں شروع بھی ہوچکی ہیں۔ مشرقی وسطیٰ میں بھی اور جنوبی ایشیاءمیں بھی۔ پاکستان اورترکی کو گرانا اس مقصد کیلئے ناگزیر ہے، اور اس مقصد کے حصول کیلئے خلیجی ممالک، عرب دنیا اور بھارت کے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

بھارت جانتا ہے کہ پاکستان اسرائیل کیلئے خطرہ ہے اور اسی اسرائیلی خوف کو آر ایس ایس کے صیہونی استعمال کرکے اپنے توسیعی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ جن میں سرفہرست ”اکھنڈ بھارت“ کے دیو مالائی تصور کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ اور جس کے لیے انہیں پاکستان سے ایک آخری اور نتیجہ خیز جنگ لڑنا ہوگی۔اسی مقصد کے حصول کیلئے بھارت اسرائیل کی دلالی کررہا ہے کہ جس کے صلے کے طور پراسے عالمی سطح پر امریکہ اور ا سکے حواریوں کی طرف سے تحفظ، اسلحہ اور ٹیکنالوجی مل رہی ہے، اور یہی وہ وجہ اور ضمانت ہے کہ جس کے بل بوتے پر مودی نے تمام تر دباﺅ کے باوجود نوے لاکھ کشمیریوں پر کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔عالمی سیاست کا غنڈہ اسرائیل اپنے تمام تر سفارتی اثرورسوخ، اقتصادی طاقت اور وائٹ ہاﺅس میں اپنے اثر کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بھارت کی پوری طرح پشت پناہی کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 70 دن کے شدید ظالمانہ کرفیو کے باوجود بھارت اس حوالے سے کوئی خاص دباﺅ محسوس نہیں کررہا۔

وزیراعظم عمران خان اپنی تمام تر نمائشی خود اعتمادی کے ساتھ بھی بھارت پر کوئی دباﺅ ڈالنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ اورا ب یہ صورتحال ہے کہ پاکستان کے پاس مزید چالیں چلنے کو بھی کچھ نہیں بچا، سوائے اس کے کہ اب انتظار کریں۔ یہ بات مودی کے لیے نہایت اطمینان کا باعث ہے کہ وہ کشمیر کے محاذ پر پاکستان کے خلاف سفارتی جنگ جیت رہا ہے۔ اس موجودہ صورتحال کو اگر بدلنا ہے تو پاکستان کو کوئی بہت بڑا غیرروایتی قدم اٹھاناہوگا۔ کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ جو مودی کو اس قدر تکلیف میں مبتلا کردے کہ اسے اپنی موجودہ پالیسی بدلنی پڑے۔ بصورت دیگر مودی اپنے منصوبے کے اگلے مرحلے کی طرف پیش قدمی کرتا جائے گا، اور نتیجتاً ریاست پاکستان کا وجود ہی خطرے میں پڑسکتا ہے۔

اس سب سے یہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ ہم جنگوں کے ایک طویل سلسلے میں داخل ہوچکے ہیں کہ جو مسلم ممالک کے قلب میں لڑی جائیں گی اور جس کی لپیٹ میں پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا ہوگی۔ مشرق میں پاکستان سے لیکر مغرب میں ترکی تک، اور اس کے بیچوں بیچ مشرق وسطیٰ کا میدان جنگ، کہ جسے فتح کرنا اسرائیل کا سب سے بڑا خواب ہے۔

آج جو آپ پاکستان اور بھارت کے بیچ نسبتاً ٹہراﺅ دیکھ رہے ہیں، یہ دراصل ایک بڑے طوفان کی آمد سے پہلے کی خاموشی ہے۔ امن پسندی اور عدم تشدد کی نفسیات سے پاکستان کی قیادت کے کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔ بلکہ یہ ممکنہ بھارتی حملے کی صورت میں قوم کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث ہوگا۔پاکستان کی قیادت اور قوم کو یہ سمجھتا ہوگا کہ اب فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے!!!

آخری زمانہ کی تفصیلات - Details on End times


آخری زمانہ کی تفصیلات

آخری زمانہ کے حوالے سے احادیث میں کافی کچھ ہے - دراصل مختلف علماء نے مختلف باتیں نکالی ہیں - کچھ کہتے ہیں کہ بڑی عالمی جنگ جسے احادیث میں الملحمتہ الکبرٰی کہتے ہیں، اس کے بعد امام مہدی کا ظہور ہو گا - کچھ نے کہا ہے کہ نہیں ، بڑی جنگ سے پہلے ان کا ظہور ہے - شیخ عمران حسین جنھوں نے کراچی سے دینی تعلیم حاصل کی اور باہر ہوتے ہیں ( انگلش میں ہی لیکچر دیتے ہیں اور آخر الزماں پر کتابیں بھی لکھی ہیں ) ان کے مطابق پہلے دجال خروج کرے گا ( دجال کے ظاہر ہونے کو خروج کرنا کہتے ہیں ) اور پھر اس کے بعد امام مہدی کا ظہور ہو گا -

بحرحال احادیث کے مطابق اور دوسرے زیادہ تر علماء کے مطابق پہلے امام مہدی کا ظہور ہوگا اور وہ سات سے نو سال کے عرصے تک دجالی قوتوں کے خلاف خونی جنگیں لڑیں گے - پھر ان کے دور کے آخر میں دجال خروج کرے گا - دجال دنیا میں چالیس دن کیلئے رہے گا جو ایمان والوں کیلئے سخت آزمائش کا وقت ہو گا - دجال کا پہلا دن ایک سال کے برابر ہو گا، دوسرا دن ایک مہینے کے برابر ہو گا ، تیسرا دن ایک ھفتے کے برابر ہو گا اور باقی سینتیس دن عام دنوں کے برابر ہوں گے - آخر میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کا شام میں ایک مینار پر نزول ہو گا - اس وقت امام مہدی اور ان کے ساتھی ایک قلعے میں محصور ہوں گے اور دجال اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان پر چڑھائی کیلئے تیار ہو گا - طویل سخت رات کے بعد فجر کے وقت عیسٰی علیہ السلام کا نزول ہو گا اور پھر وہ امام مہدی کی مدد کرتے ہوئے دجال اور اس کے ساتھ باقی سب یہودیوں کو نیست و نابود کردیں گے-

دجال کے قتل کے کچھ عرصے بعد امام مہدی طبعی طور پر وفات پاجائیں گے - پھر حضرت عیسٰی علیہ السلام قران و سنت کے مطابق چالیس سال پوری دنیا پر حکومت کریں گے جو دنیا کا سنہری دور ہو گا - وہ شادی بھی کریں گے اور ان کے بچے بھی ہوں گے - چالیس سال بعد وہ وفات پاجائیں گے اور ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا جائے گا - ان کی وفات کے بعد دنیا پر شیطان کا پھر سے راج ہو جائے گا اور پھر قیامت دنیا کے بدترین لوگوں پر آئے گی -

اللہ ہم سب کو دین کو سمجھنے اور دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے - آمین

- سید رُومان اِحسان

Muslim man of the year?




Muslim man of the year?

It is good that Imran Khan has been named 'Muslim man of the year' by Jordan's Royal Islamic Strategic Studies Centre after his UN speech recently. We will talk about how Islamic the state of Jordan really is later on but first let's talk from an other perspective.

Actually, the world only notices a few things which are "apparent" like a UN speech etc. Some of us here in Pakistan who are neutral and have not voted for any political party in the last two elections are able to draw more valid points either in favour of him or against him.

He has basically an aura of glamour around him which is not so important to many of us. Has the curfew in Kashmir been lifted? He and Bajwa say that it was not Jihad 40 years ago against USSR. And now when the situation in Indian Occupied Kashmir (IoK) demands military operation by Pakistan, he has still not sent forces there like a true Muslim leader. Some retired Army officers in Pakistan have said that we should send our forces there when patients are dying due to unavailablity of medicines, men are being tortured and our sisters are being raped.

There are many other things against him which we can point out. Check this latest post for instance about him: https://together-we-rise.blogspot.com/2019/09/the-west-and-us.html?fbclid=IwAR0ztfD_xiC2a5bg7E-2xO8IOE8RXljbS0Oh22fqjngnH2S9-cpZ07HSRu0

- S Roman Ahsan

Sunday, 13 October 2019

So strange !! - Oct 2019


SO STRANGE !!

In March 2017, I wrote a blog-post "No lasting beauty on Earth" and specifically mentioned actor Roger Moore in it at the start (along with some of his pics) who was alive then. The objective of the post was to convey some concerns about afterlife. Just two months later in May 2017, the actor passed away. So strange!

Here's the link of that post: http://together-we-rise.blogspot.com/2017/03/no-lasting-beauty.html

 - S Roman Ahsan.

Thursday, 10 October 2019

Tariq Jameel and Imran Khan


Tariq Jameel and Imran Khan

Even though the political Opposition of current Pak government has little merit but here are my views about Tariq Jameel Sahib (after long exposure to Tableeghi Jamaat though without participation in their trips and listening to TJ's lectures over the years which inspired me initially) :

Tariq Jameel Sahib is a highly popular religious scholar of Pakistan. Even though he exaggerates many times in narrations but overall he still manages to inspire Muslims. Unfortunately, he also likes to heavily praise celebrities or people in authority which is unbecoming of a good religious scholar.

Tariq Jameel Sahib also heavily praised Indian actor Amir Khan few years back. And in 2018, Amir Khan gave positive commens about the new Indian law which is in favour of homosexuality 

This shows that we cannot really trust Tari Jameel Sb. Secondly, the Tableeghi Jamaat is not really credible since it has expanded by many times over the decades but the moral values of our society are shrinking. Almighty Allah's Jamaat is always small.

Tuesday, 8 October 2019

VIDEO - KASHMIR - Last option for us - Oct 09. 2019



VIDEO - KASHMIR - Last option for us (so don't waste more time) - Oct. 09, 2019

کشمیر - ہمارے پاس آخری آپشن یہی رہ گیا ہے ، اسلئے دیر نہ کریں

LINK: https://www.youtube.com/watch?v=fYvZJ2Jny8o

Well done by the Creators of this video

Saturday, 5 October 2019

میں نے بھی تالی بجائی - UN speech



جاوید چوہدری
زیرو پوائنٹ

میں نے بھی تالی بجائی

عمران خان نے 27 ستمبر کو سلامتی کونسل میں خطاب کر کے میچ اور دل دونوں جیت لیے‘ پورے پاکستان نے کھل کر تالیاں بجائیں‘ میں نے بھی دل سے کھل کر عمران خان کو شاباش دی اور تعریف بھی کی‘ عمران خان کی تقریر میں کیا تھا جس نے مجھ جیسے ناقد کو بھی تعریف پر مجبور کر دیا‘ میں اس طرف آنے سے پہلے آپ کو چند لمحوں کے لیے 1971ءمیں لے جاﺅں گا۔بھارت نے مکتی باہنی کے ذریعے 1969ءمیں مشرقی پاکستان میں چھیڑ چھاڑ شروع کر دی تھی۔
پاکستان کے معاشی اور سیاسی حالات آج جیسے تھے‘ انڈسٹری بند ہو رہی تھی‘ جنرل یحییٰ خان نے 303 بیورو کریٹس کو نوکریوں سے نکال دیا چناں چہ افسروں نے خوف زدہ ہو کر کام بند کر دیا تھا‘ فائلیں رک گئی تھیں اور محکمے نیچے آنا شروع ہو گئے تھے‘ ملک میں عیاشی اور طوائف الملوکی کا دور بھی شروع ہو گیا تھا‘ گانے والیاں بڑے بڑے فیصلے کرا دیتی تھیں اور رہی سہی کسر 1970ءکے انتخابات نے پوری کر دی‘ ذوالفقار علی بھٹو نے مغربی پاکستان اور شیخ مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان سے اکثریت حاصل کر لی‘ شیخ مجیب کی نشستیں ذوالفقار علی بھٹو سے کہیں زیادہ تھیں مگر خوب صورت اور بہادر جنرل یحییٰ خان ”بدصورت اور ٹھگنے“ بنگالیوں کو اقتدار نہیں دینا چاہتے تھے لہٰذا ملک میں خوف ناک سیاسی بحران پیدا ہو گیا‘ 1970ءمیں قومی اسمبلی ڈھاکا اور وزیراعظم ہاﺅس اسلام آباد میں ہوتا تھا گویا آئینی قبلہ مشرقی پاکستان اور حکومتی مرکز مغربی پاکستان ہوتا تھا‘الیکشن کو چارماہ گزر گئے مگر قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس نہ ہو سکا‘ جنرل یحییٰ خان اجلاس کے راستے میں رکاوٹ بن گئے‘ کیوں؟ کیوں کہ وہ جانتے تھے شیخ مجیب الرحمن اسمبلی کے پہلے اجلاس ہی میں وزیراعظم بن جائیں گے اوریہ لوگ کسی بھی قیمت پر یہ دن نہیں دیکھنا چاہتے تھے‘ ذوالفقار علی بھٹو بھی شیخ مجیب کو مسند اقتدار پر دیکھنے کے لیے تیار نہیں تھے چناں چہ انہوں نے مینار پاکستان کے سائے میں کھڑے ہو کر اعلان کر دیا ”جو بھی ڈھاکا جائے گا ہم اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے“۔

یہ سیاسی بحران تیزی سے فوج کے امیج کو نقصان پہنچانے لگا‘ بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو مشیروں نے مشورہ دیا ہم اگر پاکستان پر حملہ کریں تو عوام اپنی فوج کا ساتھ نہیں دے گی لہٰذا ہم 1965ءکی ہزیمت کا بدلہ لے لیں گے‘ اندراگاندھی قائل ہو گئی اور اس نے 22 نومبر کو عیدالفطر کے دن اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کر دیں‘ پاکستانی فوج نے بھارتی توقعات کے برعکس بے جگری سے جواب دیا‘ بھارت کے چھکے چھوٹ گئے‘ بھارت کا خیال تھا یہ مغربی سرحدوں کو چھیڑے بغیر مشرقی پاکستان پر قبضہ کر لے گا لیکن پاک فوج کے ردعمل نے اسے پریشان کر دیااور یہ پاکستان کی توجہ تقسیم کرنے کے لیے 3 دسمبر کو مغربی پاکستان پر بھی حملہ کرنے پر مجبور ہو گیا۔

پاکستانی فوج جذبے کے ساتھ لڑ رہی تھی لیکن سیاسی طاقت اس وقت فوج کے ساتھ نہیں تھی لہٰذا پاکستان دباﺅ میں آ گیا‘ آغا شاہی اس وقت اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے تھے‘ یہ چار دسمبر کو سلامتی کونسل چلے گئے‘ سوویت یونین بھارت کا اتحادی تھا‘ روس نے بنگلہ دیش کی جلاوطن حکومت کو سلامتی کونسل میں فریق بنانے کی قرارداد پیش کر دی‘ چین اس وقت بھی پاکستان کا دوست تھا‘ چین نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا‘ جنرل یحییٰ خان کو پاکستان اور فوج دونوں کو بچانے کے لیے سلامتی کونسل میں موثر آواز چاہیے تھی اور ملک میں اس وقت ذوالفقار علی بھٹو کے علاوہ کوئی موثر آواز نہیں تھی۔

جنرل یحییٰ خان نے بھٹو صاحب کو تیار کیا اور انہیں وزیر خارجہ کا اعزازی ٹائٹل دے کر سلامتی کونسل بھجوا دیا‘ بھٹو صاحب 11 دسمبر 1971ءکو نیویارک پہنچ گئے‘ امریکا اور چین نے فائر بندی کی قرارداد پیش کر رکھی تھی‘ اس دوران پولینڈ نے بھی سوویت یونین کی مدد سے سیز فائر کی درخواست جمع کرا دی چناں چہ اقوام متحدہ کے پانچ میں سے تین مستقل ارکان سیز فائر پر متفق ہو گئے‘ پاکستان جنگ ہار رہا تھا‘ ہمارے 90 ہزار فوجی مشرقی پاکستان میں پھنس چکے تھے۔
فائر بندی اس وقت پاکستان اور پاک فوج کے لیے واحد آپشن بچا تھا‘ 15 دسمبر کا دن آ گیا‘ ذوالفقار علی بھٹو سلامتی کونسل پہنچے‘ ایک خوف ناک جذباتی تقریر کی‘ سلامتی کونسل کو برا بھلا کہا‘ پولش قرارداد پھاڑ کر پھینکی اور یہ فرما کر ”ہم (ہزار سال تک) لڑیں گے“ سلامتی کونسل کے فلور سے اٹھ گئے‘ یہ تقریر پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی تھی‘ قوم نے حلق کی پوری طاقت سے جیے بھٹو کا نعرہ لگایا اور تالیاں بجا کر آسمان سر پر اٹھا لیا لیکن اس شان دار تقریر کے اگلے دن کیا ہوا؟ 16 دسمبر 1971ءکو جنرل نیازی نے ڈھاکا کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈال دیے۔

پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا‘ بھٹو صاحب کی تقریر شان دار تھی‘ شان دار ہے اور شان دار رہے گی لیکن ہم نے اس شان دار تقریر کے بدلے میں کیا پایا؟ ہم نے آدھا پاکستان گنوا دیا‘ مورخین آج بھی کہتے ہیں ذوالفقار علی بھٹو اگر اس دن جذباتی تقریراور کاغذات پھاڑنے کی بجائے پولینڈ کی قرار داد پاس ہونے دیتے تو سیز فائر ہو جاتا‘ فوجیں واپس چلی جاتیں اور شاید پاکستان بچ جاتا لیکن یہ نہ ہو سکا اور یہ حقیقت ہے ماضی ماضی ہی ہوتا ہے اور شاید قدرت بھی ماضی کو نہیں بدل سکتی۔

وزیراعظم عمران خان کی 27 ستمبر کی تقریر بلاشبہ ذوالفقار علی بھٹو کی 15 دسمبر 1971ءکی تقریر سے زیادہ شان دار اور جان دار تھی‘ میں نے بھی تقریر کے بعد قوم کے ساتھ کھڑے ہو کر عمران خان کے لیے تالی بجائی تھی‘ ہم بہادر لیڈر شپ کو ترسے ہوئے لوگ ہیں‘ ہم جب بھی اپنے کسی لیڈر کو دنیا کو للکارتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہمارے اندر جذبہ بھی پیدا ہو جاتا ہے اور ہم دل کھول کر اس کی تعریف بھی کرتے ہیں‘ عمران خان نے بھی 27 ستمبر کو سلامتی کونسل کے ڈائس پر کھڑے ہو کر جو کہا قوم یہ دہائیوں سے سننا چاہتی تھی۔

ہم چاہتے تھے ہمارے لیڈر اقوام عالم کے درمیان کھڑے ہو کر پاکستان اور کشمیر کا مقدمہ لڑیں لیکن بدقسمتی سے ماضی کا کوئی بھی لیڈر اقوام متحدہ میں عمران خان کی طرح کھل کر بات نہیں کر سکا‘ عمران خان کی باتوں میں درد بھی تھا‘ جذبہ بھی‘ دلیل بھی اور اثر بھی‘ پوری دنیا نے اس تقریر کو سراہا اور میں دل سے سمجھتا ہوں عمران خان نے 27 ستمبر 2019 ءکودوسری بار ورلڈ کپ حاصل کر لیا‘ یہ مدر آف آل ورلڈ کپس لے کر پاکستان آئے‘ مجھے افسوس ہے میں ان کے استقبال کے لیے ائیرپورٹ نہیں جا سکا۔

یہ تقریر واقعی جان دار اور شان دار تھی لیکن اس شان دار تقریر کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے آج مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 59 دن ہو چکے ہیں اور دنیا کے 245 اور اقوام متحدہ کے 193رکن ملکوں میں سے کسی ملک نے بھارت کو کرفیو اٹھانے کا حکم نہیں دیا‘ سعودی عرب کے ولی عہد نے ہمارے وزیراعظم کو نیویارک جانے کے لیے اپنا جہاز دے دیا مگر نریندر مودی کو”کرفیو اٹھا دو“ کا ایک ایس ایم ایس تک نہیں کیا‘ طیب اردگان اور مہاتیر محمد نے بھی سلامتی کونسل میں کشمیر کا ذکر کیا مگر بھارت کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا۔

چین‘ روس اور امریکا کشمیر کے ایشو پر ہمارے ساتھ ہیں مگر یہ نریندر مودی کونہیں سمجھا رہے اور ہم نے شان دار خطاب فرما کر دوسری بار ورلڈ کپ بھی لے لیا مگر ہم اس تقریر کے باوجود کشمیر حاصل کر سکے اور نہ ہی کشمیریوں کو ”کرفیو اٹھ گیا“ کی خوش خبری دے سکے‘تقریر کے باوجود حالات جوں کے توں رہے۔میں دل پر بھاری پتھر رکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہوں دنیا کے مسئلے اگر تقریروں سے حل ہو سکتے تو کشمیر 27 ستمبر کو آزاد ہو چکا ہوتا۔

دنیا میں اگر تقریریں سب کچھ ہوتیں تو عمران خان 27 ستمبر کو دنیا کے سپر سٹار اور نریندر مودی زیرو سٹار بن چکے ہوتے اور راوی صرف اور صرف عمران خان کے لیے بانسری بجا رہے ہوتے مگر یہ دنیا بڑی ظالم ہے‘ اس میں مودی تقریر کا مقابلہ ہارنے کے باوجود جیت کر دہلی پہنچ جاتا ہے اور ہم تقریر کا ورلڈ کپ لے کر بھی خالی ہاتھ اسلام آباد آتے ہیں‘ ہم سچے ہیں لیکن ہماری جھولی خالی ہے جب کہ مودی جھوٹا ہے اور اس کی جھولی میں کشمیر چمک رہا ہے۔

ہمیں تقریریں ضرور کرنی چاہئیں‘ لیڈروں کو دلائل اور بے خوفی بڑا لیڈر بناتی ہے ہمیں بھی بڑا لیڈر بننا چاہیے مگر یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے قوموں کو تقریریں نہیں اندرونی استحکام‘ معاشی توازن اور سیاسی اتحاد بچایا کرتے ہیں چناں چہ کشمیرجب بھی آزاد ہوگا مضبوط پاکستان کے ذریعے آزاد ہو گا‘ تقریروں اور خطبوں سے نہیں‘ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کے سو سالوں سے بہتر ہوتی ہے‘ یہ بات صرف کتابوں میں اچھی لگتی ہے جب کہ حقیقت تو یہ ہے بنگال گیدڑ چھین کر لے گئے تھے اور میسور کے شیر کے ہاتھ میں اس ایک فقرے کے سوا کچھ نہیں بچا تھا۔

لہٰذا محترم وزیراعظم! مقدمے جیتنے کے لیے لڑے جاتے ہیں یہ سننے کے لیے نہیں کہ بے گناہ ملزم پھانسی پر لٹک گیا مگر وکیل کے دلائل نے جج کو انگلی دانتوں میں دابنے پر مجبور کر دیا اور جنگیں بھی جیتنے کے لیے لڑی جاتی ہیں مخالف فوجوں سے تالیاں بجوانے کے لیے نہیں۔عمران خان کی تقریر ذوالفقار علی بھٹو کے خطاب سے اچھی تھی مگر سوال یہ ہے قوم کو چسکے کے علاوہ تقریر سے کیا ملا؟آپ اگر مزید چسکا لینا چاہتے ہیں تو آپ سلامتی کونسل کے آرکائیو سے یاسرعرفات‘ ہیوگو شاویز‘ معمر قذافی اور خروشیف کی تقریریں نکال کر سن لیں۔

آپ تالیاں بجا بجا کر پاگل ہو جائیں گے‘ خروشیف نے تو اپنا جوتا ڈائس پر مار کر کہاتھا ”میں تمہیں دفن کردوں گا“ لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ سوویت یونین ٹوٹ گیا‘ قذافی کی لاش گلیوں میں گھسیٹی گئی‘ ہیوگوشاویز کاملک خوف ناک کساد بازاری کا شکار ہوگیا اور یاسرعرفات کا فلسطین آج بھی اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہے لہٰذا تاریخ کہتی ہے قوموں کو محمد بن قاسم چاہیے ہوتے ہیں‘ محمد بن قاسم کی تقریریں نہیں اور ہم خطاب کے ذریعے دنیا فتح کرنا چاہتے ہیں اور یہ صرف ہم ہی کر سکتے ہیں۔🌹