Wednesday, 23 May 2018

(COMMENTARY) - The Pond of 'Kausar' & Comment

بسم الله الرحمن الرحيم

In the name of ALLAH, the Most Gracious, the Most Merciful

The Pond of kausar, the bridge of sirat and the scales of justice


The  article ‘Pond of Kausar’ from the link above, I basically shared with my email group in 2015. I was searching for an article on ‘Pond of Kausar’ on Internet and this article caught my eye though I had read some narrations in books before. It is good to circulate such articles for Muslims who are more comfortable with English though we have to attach equal importance with Urdu language as it is closer to Arabic.

Since it is Ramadan, it is important to understand that we have to fall in love with Islam above all. Many modern Muslims think that being a good human being is sufficient for a Muslim. They fail to acknowledge that being a good human being is just one aspect of Islam while the other part is our bond with Almighty Allah who is the Creator of entire Universe.

To achieve salvation in the hereafter or to put it more directly, to escape hellfire in the afterlife we have to ‘strive’ as good Muslims in both of these areas i.e. humanity factor and our devotion to God. As college students, can we skip Paper A and only attempt Paper B to pass the exam? Certainly not – we would fail the exam. So when it is a question of an everlasting afterlife, can we be so careless?

This means constant learning and improving ourselves till death while ‘slowly’ giving up those habits and ways that are not pleasing to God. All this eventually means that we would have to sacrifice at times also in the way of Allah. How to proceed in all of this requires us to consult scholars and religious people and building our knowledge through proper conventional sources of learning Islam.

Closeness with Allah or living life according to Islam is not really for abundance in this life but rather abundance in afterlife. It means even if a Muslim has achieved success in his respective professional field through permissible sources of earning (halal), he has to refrain from a lavish lifestyle in order to submit wholly to Allah Almighty (swt). Although he may still enjoy his success within certain limits but his overall inclination should be ‘striving’ to adopt simplicity in all spheres of life. Only then he would be successful in strengthening his bond with the Creator otherwise he would be lost in the glitter of modern day civilization and thus pursuit of everything in the name of fun and entertainment.

Let’s look from another perspective. If submission to Allah just means material success in this world then how come all Prophets (peace be upon them all) went through huge trials and sufferings in their lives? A Prophet was always the most righteous and most handsome man of his time or region. He should have been the King of the entire world since he was closest to God, if we believe closeness with Allah brings instant worldly success. However, most Prophets (peace be upon them all) lived like ordinary men except few like Prophet Daud (pbuh) and Prophet Sulaiman (pbuh) who were Kings of their regions.

The Holy Qur’an testifies that the Children of Israel or Bani-Israel (Israel was the title of Prophet Yaqoob pbuh) martyred many Prophets (peace be upon them all) after the time of Prophet Musa (pbuh). How come a Prophet of God is terminated by evil men if he is closest to Allah? He should have enjoyed the highest level of worldly success and glory in this world based on our premise. It is because Allah has a Divine Plan and He knows best!

For the same reason we see that the Holy Prophet’s (pbuh) grandson Hadhrat Imam Hussain (ra) was martyred along with his other close family members in Karbala. Satan or Shaitan makes life difficult for those men whose hearts are full of love for Allah - but this should not discourage us to strive and proceed on the path of Islam in our lives since Islam is the final message for the whole mankind with our Holy Prophet (SallAllahu Alaihi Wa-Alaihi Wassallam) delivering that message to us!

Hence let us resolve this Ramadan that we will strive to spend our lives in submission to Allah (Haqooq Allah) and will pay due attention to the rights of our close ones around us (Haqooq-ul-ibaad) besides caring for humanity at large. For submission to Allah, we have to start with obligatory acts of worship and then an understanding of overall spirit of Islam. Like, is Islam about liberalism or conservatism? These are fine concepts we need to understand even though we don’t have to cut ourselves from the world and live in isolation. Still, we need to assign certain limits to our lifestyles and preferences in this regard.

May Allah accept our worship and good deeds this Ramadan, and make us proceed on the path of true Islam with ease and without trials as we are very weak – Aameen.

- By Syed Roman Ahsan (May 23, 2018).

Islam's bitter truth - Islam ki talkh sachchai


Monday, 21 May 2018

7 Questions on afterlife - Aakhrat Saat Sawwaal

کیا آپ ان سات سوالوں کے جواب جانتے ہیں؟ 

سوال نمبر1

جنت کہاں ہے؟ 


جنت ساتوں آسمانوں کے اوپر ساتوں آسمانوں سے جدا ہے،

کیونکہ ساتوں آسمان قیامت کے وقت فنا اور ختم ہونے والے ہیں،

جبکہ جنت کو فنا نہیں ہے،

وہ ہمیشہ رہے گی،

جنت کی چهت عرش رحمن ہے.

سوال نمبر 2:

جہنم کہاں ہے؟ 


جہنم ساتوں زمین کے نیچے ایسی جگہ ہے

جس کا نام "سجین" ہے.

جہنم جنت کے بازو میں نہیں ہے،جیسا کہ بعض لوگ سوچتے ہیں.

جس زمین پر ہم رہتے ہیں

یہ پہلی زمین ہے،

اس کے علاوہ چھ زمینیں اور ہیں

جو ہماری زمین کے نیچے ہماری زمین سے علیحدہ اور جدا ہیں.

سوال نمبر 3:

سدر ة المنتهی کیا ہے؟


سدرة عربی میں بیری /اور بیری کے درخت کو کہتے ہیں،

المنتہی یعنی آخری حد،

یہ بیری کا درخت وہ آخری مقام ہے

جو مخلوقات کی حد ہے.

اس سے آگے حضرت جبرئیل بهی نہیں جا پاتے ہیں. 

سدرة المنتهی ایک عظیم الشان درخت ہے،

اس کی جڑیں چهٹے آسمان میں

اور اونچائیاں ساتویں آسمان سے بھی بلند ہیں،

اس کے پتے ہاتهی کے کان جتنے

اور پهل بڑے گهڑے جیسے ہیں،

اس پر سنہری تتلیاں منڈلاتی ہیں ،

یہ درخت جنت سے باہر ہے.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو اسی درخت کے پاس ان کی اصل صورت میں دوسری مرتبہ دیکھا تها،

جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں پہلی مرتبہ اپنی اصل صورت میں مکہ مکرمہ میں مقام اجیاد پر دیکها تها.

سوال نمبر 4:

حورعین کون ہیں؟ 


حور عین جنت میں مومنین کی بیویاں ہوں گی،

یہ نہ انسان ہیں نہ جن ہیں اور نہ ہی فرشتہ ہیں،

اللہ تعالیٰ نے انہیں مستقل پیدا کیا ہے،

یہ اتنی خوبصورت ہیں کہ اگر دنیا میں ان میں سے کسی ایک کی محض جھلک دکھائی دے جائے،

تو مشرق اور مغرب کے درمیان روشنی ہو جائے.

حور عربی زبان کا لفظ ہے ،

اور حوراء کی جمع ہے،

اس کے معنی ایسی آنکھ جس کی پتلیاں نہایت سیاه ہوں اور اس کے اطراف نہایت سفید ہوں.

اور عین عربی میں عیناء کی جمع ہے

اس کے معنی ہیں بڑی بڑی آنکھوں والی.

سوال 5:

ولدان مخلدون کون ہیں؟


یہ اہل جنت کے خادم ہیں،

یہ بهی انسان یا جن یا فرشتے نہیں ہیں،

انہیں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کی خدمت کے لئے مستقل پیدا کیا ہے،

یہ ہمیشہ ایک ہی عمر کے یعنی بچے ہی رہیں گے،

اس لیے انہیں "الولدان المخلدون" کہا جاتا ہے.

سب سے کم درجہ کے جنتی کو

دس ہزار ولدان مخلدون عطا ہوں گے.

سوال نمبر 6:

اعراف کیا ہے؟ 


جنت کی چوڑی فصیل کو اعراف کہتے ہیں.

اس پر وہ لوگ ہوں گے

جن کے نیک اعمال اور برائیاں دونوں برابر ہوں گی،

ایک لمبے عرصہ تک وہ اس پر رہیں گے

اور اللہ سے امید رکهیں گے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی جنت میں داخل کردے.

انہیں وہاں بهی کهانے پینے کے لیے دیا جائے گا،

پهر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے جنت میں داخل کردےگا.

سوال نمبر 7:

قیامت کے دن کی مقدار اور لمبائی کتنی ہے؟


پچاس ہزار سال كے برابر.

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

تعرج الملئكة و الروح اليه في يوم كان مقداره خمسين الف سنة.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

"قیامت کے پچاس موقف ہیں، اور ہر موقف ایک ہزار سال کا ہو گا."

جب آیت

"یوم تبدل الأرض غیر الأرض و السماوات"

نازل ہوئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ "یا رسول اللہ جب یہ زمین و آسمان بدل دئیے جائیں گے تب ہم کہاں ہوں گے"؟

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"تب ہم پل صراط پر ہوں گے. 

پل صراط پر سے جب گزر ہوگا

اس وقت صرف تین جگہیں ہوں گی



3.پل صراط"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"سب سے پہلے میں اور میرے امتی پل صراط کو طے کریں گے."

پل صراط کی تفصیل

قیامت میں جب موجودہ آسمان اور زمین بدل دئے جائیں گے

اور پل صراط پر سے گزرنا ہوگا

وہاں صرف دو مقامات ہوں گے

جنت اور جہنم.

جنت تک پہنچنے کے لیے

لازما جہنم کے اوپر سے گزرنا ہوگا.

جہنم کے اوپر ایک پل نصب کیا جائے گا،

اسی کا نام" الصراط "ہے،

اس سے گزر کر جب اس کے پار پہنچیں گے

وہاں جنت کا دروازہ ہوگا،

وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم موجود ہوں گے

اور اہل جنت کا استقبال کریں گے.

یہ پل صراط درج ذیل صفات کا حامل ہو گا:

 بال سے زیادہ باریک ہوگا.

 تلوار سے زیادہ تیز ہو گا. 

 سخت اندھیرے میں ہوگا،

اس کے نیچے گہرائیوں میں جہنم بهی نہایت تاریکی میں ہوگی.,

سخت بپهری ہوئی اور غضبناک ہوگی. 

گناہ گار کے گناہ اس پر سے گزرتے وقت مجسم اس کی پیٹھ پر ہوں گے،

اگر اس کے گناہ زیادہ ہوں گے

تو اس کے بوجھ سے اس کی رفتار ہلکی ہو گی،

اللہ تعالیٰ ہمیں اس صورت سے اپنی پناہ میں رکھے.

اور جو شخص گناہوں سے ہلکا ہوگا

تو اس کی رفتار پل صراط پر تیز ہوگی.

 اس پل کے اوپر آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے

اور نیچے کانٹے لگے ہوں گے

جو قدموں کو زخمی کرکے اسے متاثر کریں گے.

لوگ اپنی بد اعمالیوں کے لحاظ سے اس سے متاثر ہوں گے.

جن لوگوں کی بے ایمانی اور بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کے پیر پهسل کر وہ جہنم کے گڑهے میں گر رہے ہوں گے

ان کی بلند چیخ پکار سے پل صراط پر دہشت طاری ہو گی.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پل صراط کی دوسری جانب جنت کے دروازے پر کھڑے ہوں گے،

جب تم پل صراط پر پہلا قدم رکھ رہے ہوگے

آپ صلی اللہ علیہ و سلم تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے کہیں گے"

یا رب سلم، یا رب سلم"

آپ بهی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے درود پڑهئے:

اللهم صل وسلم على الحبيب محمد. 

لوگ اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے بہت سوں کو پل صراط سے گرتا ہوا دیکھیں گے اور بہت سوں کو دیکھیں گے کہ وہ اس سے نجات پا گئے ہیں.

بندہ اپنے والدین کو پل صراط پر دیکهے گا

لیکن ان کی کوئی فکر نہیں کرےگا،

وہاں تو بس ایک ہی فکر ہو گی کہ کسی طرح خود پار ہو جائے.

روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قیامت کو یاد کر کے رونے لگیں،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا:

عائشہ کیا بات ہے؟

حضرت عائشہ نے فرمایا: مجهے قیامت یاد آگئی،

یا رسول اللہ کیا ہم وہاں اپنے والدین کو یاد رکهیں گے؟

کیا وہاں ہم اپنے محبوب لوگوں کو یاد رکھیں گے؟

آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:

ہاں یاد رکھیں گے،

لیکن وہاں تین مقامات ایسے ہوں گے

جہاں کوئی یاد نہیں رہے گا

.(1) جب کسی کے اعمال تولے جائیں گے

(2) جب نامہ اعمال دیئے جائیں گے

(3) جب پل صراط پر ہوں گے.

دنیاوی فتنوں کے مقابلے میں حق پر جمے رہو.

دنیاوی فتنے تو سراب ہیں.

ان کے مقابلہ میں ہمیں مجاہدہ کرنا چاہیے،

اور ہر ایک کو دوسرے کی جنت حاصل کرنے پر مدد کرنا چاہئے

جس کی وسعت آسمانوں اور زمین سے بهی بڑهی ہوئی ہے. 

اس پیغام کو آگے بڑهاتے ہوئے صدقہ جاریہ کی نیت کرنا نہ بهولیں.

یا اللہ ہمیں ان خوش نصیبوں میں کردیجئے

جو پل صراط کو آسانی سے پار کر لیں گے.

اے پروردگار ہمارے لئے حسن خاتمہ کا فیصلہ فرمائیے. آمین

اس تفصیل کے بعد بھی کیا گمان ہے کہ

وہاں کوئی رشتہ داریاں نبھائے گا،

جس کے لئے تم یہاں اپنے اعمال برباد کر رہے ہو؟

مخلوق کے بجائے خالق کی فکر کرو.

اپنے نفس کی فکر کرو

کتنی عمر گزر چکی ہے اور کتنی باقی ہے

کیا اب بهی لا پرواہی اور عیش کی گنجائش ہے؟

اس پیغام کو دوسروں تک بهی پہنچائیں.

یااللہ اس تحریر کو میری جانب سے بهی اور جو بهی اس کو عام کرنے میں مدد کرے سب کے لئے اس کو صدقہ جاریہ بنادیجئے آمین.

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

Saturday, 19 May 2018

(Hadith) - دنیا اور آخرت

دنیا اور آخرت

حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اس دوزخی کو لایا جائے گا جو اہلِ دُنیا میں سے سب سے زیادہ خوشحال تھا، پھر اُسے آگ میں ایک غوطہ دیا جائے گا، پھر اُس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم ّ کے بیٹے کیا تُو نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی، کیا تُجھ پر کبھی راحت گزری؟ تو وہ جواب دے گا کہ نہیں، خدا کی قسم اے میرے رب (میں نے کبھی راحت نہیں دیکھی) -

اور (ایسے ہی) اس جنتی کو لایا جائے گا جو دُنیا میں سب لوگوں سے زیادہ تکلیف میں رہا ہوگا اور اُسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا، پھر اسے کہا جائے گا کہ اے آدمّ کے بیٹے کیا تُو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی، کیا تُجھ پر کبھی کوئی شدت گزری؟ تو وہ کہے گا کہ نہیں، خدا کی قسم اے میرے رب، مجھ پر کبھی کوئی تکلیف نہیں گزری اور نہ میں نے کبھی کوئی شدت دیکھی- (صحیح مُسلم)

تشریح :- اس حدیث میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس سے مُراد یہ واضح کرنا ہے کہ دُنیا کا عیش و آرام آخرت کے عیش و آرام کے مقابلے میں بالکل عارضی اور انتہائی گھٹیا ہے اور یہی حال دُنیا کی تکالیف کا بھی ہے کہ وہ بھی آخرت کے عذاب کے مقابلے میں انتہائی عارضی اور بالکل معمولی ہیں- 

لہٰذا وہ شخص جو دُنیا میں انتہائی عیش و آرام میں رہا ہو گا، مگر ہو گا خدا کا نافرمان، وہ صرف ایک دفعہ جہنم میں غوطے دیئے جانے کے بعد اپنی دنیوی آسائش و آرام کو اس طرح بُھول چکا ہو گا کہ خدا کی قسم کھا کر کہے گا کہ میں نے تو کبھی کوئی آرام دیکھا ہی نہیں اور ایسے ہی جو شخص دُنیا میں سب سے زیادہ تکالیف کا شکار رہا ہو گا، مگر ہو گا خدا کا فرمانبردار، اُسے جنت میں ایک ہی غوطہ دیا جائے گا تو وہ اپنے سارے دُکھ درد اس طرح بُھول جائے گا کہ خدا کی قسم کھا کر کہے گا کہ میں نے تو کبھی کوئی تکلیف دیکھی ہی نہیں -

جنت میں ادنٰی ترین مرتبہ - Lowest rank in Jannah

جنت میں ادنٰی ترین مرتبہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کا جنت میں ادنٰی ترین مرتبہ یہ ہو گا کہ اس سے کہا جائے گا کہ تمنا کر- پس وہ تمنا کرے گا اور تمنا کرے گا (یعنی اپنی ہر تمنا بیان کردے گا) - پھر اس سے کہا جائے گا کہ کیا تو تمنا کرچکا؟ وہ کہے گا کہ جی ہاں (میں نے اپنی سب تمنائیں بیان کردی ہیں)- پھر اُس سے کہا جائے گا کہ جو (جو) تمنائیں تُو نے کی ہیں وہ (سب) تمہیں دی جاتی ہیں اور اُس کے ساتھ اِتنا ہی اور دیا جاتا ہے- (صحیح مسلم)

Friday, 18 May 2018

Initial verses from Surah Al-e-Imran

بِسمِ اللہِ الرَحمٰنِ الرَحِیم

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Translation of Initial verses from Surah Al-e-Imran

1- Alif. Lam Mim.

2- Allah is. Beside Whom none is to be worshiped. Self-Living, Sustainer of others.

3- He sent down to you this true Book, confirming preceding Books, and He sent down Tawrat and Injil before this.

4- Aforetime guiding the people and sent down the criterion; No doubt, for those who denied the Signs of Allah is the severe torment and Allah the Mighty, is Possessor of the power of retribution.

5- Nothing is hidden from Allah, neither in the earth nor in the heaven.

6- It is He Who forms your shape in the wombs of the mothers as He pleases. Besides Whom none is to be worshiped the Dominant, the Wise.

7- It is He Who sent down upon you the Book, in which some verses have clear meaning, they are the substance of the Book, and others are those, in the meaning of which there is doubt. Those in whose hearts there is perversity pursue doubtful one desiring deviation and searching their own viewpoint of it, and its right interpretation is known to Allah alone. And those of firm knowledge say, 'We believed in it, all is from our Lord and none accept admonition save men of understanding.

8- 'O our Lord! Let not our hearts become perverse after this that You guided us and bestow on us mercy from Yourself; no doubt, You are the big Bestower.

9- 'O our Lord! No doubt You are the assembler of all people for the Day in which there is no doubt. Undoubtedlythe promise of Allah changes not.

10- No doubt, those who became infidels; their riches and their children shall avail them nothing against Allah and it is they who are the fuel of the hell.

11- Like the people of Pharaohs and those before them, they belied our Signs; then Allah seized them for their sins and Allah's punishment is severe.

12- Say to the disbelievers, 'soon you shall be overcome and be driven towards the hell and that is an evil bed'.

13- No doubt, there was a sign for you in two groups that encountered among themselves. One gang fighting in the way of Allah and the other disbelievers that they understood them double of themselves in their eyesight;and Allah strengthens with His help whom He pleases. No doubt, in it there is teaching after seeing for the men of understanding.

14- Adorned for men is the love of these lusts, women and children and the stored up heaps of gold and silver and branded horses and cattle and crops. This is the capital of living world; and it is Allah with Whom there is an excellent destination.

15- Say you 'shall I inform you of something better than that.' For pious ones there are gardens with their Lord beneath which rivers flow therein shall they abide, and pure wives and Allah's pleasure. And Allah sees His bondsmen.

16- Those who say, 'Our Lord we did accept faith, then forgive us our sins and save us from the torment of the hell.'

17- The steadfast and truthful and humble and those who spend in the way of Allah and those who seek forgiveness in the latter part of the night.

18- Allah bore witness that none is to be worshiped save He, and the angels and the men of learning (too) standing with justice; none is to be worshiped save He, the most Reverend, Wise.

19- Verily, only Islam is the Deen (Religion) before Allah, and the men of Book did not dissent but after the knowledge had come to them, because of their hearts burning. And whoso denies the signs of Allah; then no doubt Allah is to call to account very soon.

20- Again O beloved! If they argue with you, then say 'I have submitted my face before Allah and those who followed me; and say to the men of Books and to those who read not; 'have you submitted'? Hence if they submit, then they got the guidance and if turn their faces, then upon you it is only to convey the message, and Allah is seeing His bondsmen.

21- Those who deny the signs of Allah, and slay the Prophets unjustly and kill the men ordering justice; give them good tiding of painful torment.

22- These are they whose deeds have perished in this world and the next and they shall have no helpers.